مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 264 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 264

مشعل راه جلد سوم 264 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کے اوپر سخت کہنا بالکل ایک ناجائز ظالمانہ حملہ ہے جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔تیسرا یہ میں نے غور سے دیکھا ہے بڑے لمبے تجربے کے بعد میں یقین کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ جرمن قوم میں اسلام قبول کرنے کی صلاحیتیں یورپ کی دوسری قوموں سے زیادہ ہیں۔چونکہ ظاہری کرختگی کے باوجود ان کے اندر فطرتا سچائی کی محبت موجود ہے اور سعادت پائی جاتی ہے اور بناوٹی اور دکھاوے کے طور پر نہ ان کو باتیں کرنی آتی ہیں نہ ان کا مزاج ان کو ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے اس کے مقابل پر ساؤتھ آف یورپ میں آپ چلے جائیں وہاں آپ کو بہت ہی خوش مزاج لوگ ملیں گے جو جگہ جگہ بات بات پر بچھے جائیں گے آپ کے سامنے لیکن اس سے آگے نہیں۔جب آپ ان کو کوئی سنجیدہ پیغام دینے کی کوشش کریں گے جب آپ ان کو کسی اعلیٰ مقصد کی طرف بلائیں گے تو السلام علیکم کہ کر الگ ہو جائیں گے ابتداء ان کی خوش دلی خوش مزاجی کی تہذیب نسبتاً ایک سطحی حیثیت رکھتی ہے جب کہ جرمن قوم میں یہ خوبی موجود ہے کہ ابتدء اسخت نظر آتے ہیں لیکن ذرا سا آپ ان کے وجود میں داخل ہونے کی کوشش کریں تو اندر سے آپ ان کو نہایت اعلیٰ انسانی قدروں سے مزین پائیں گے۔پس فطرتا یہ اسلام کے قریب ہیں اور یہ جو میرا تجزیہ ہے یہ ایک فرضی بات نہیں حقائق پرمبنی تجزیہ ہے اور کچھ عرصہ پہلے مجھے یہ معلوم کر کے بے حد خوشی ہوئی کہ حضرت مصلح موعود نے جنگِ عظیم سے پہلے جب پہلا احمد یہ مشن جرمنی میں بنانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت آپ کا بھی یہی جرمن قوم کے متعلق نظریہ تھا اور آپ نے اس کا اظہار اپنے خطبے میں کیا کہ میں جرمنی کو پہلے اس لئے چن رہا ہوں کہ میرے نزدیک جرمنی کے مستقبل سے ( دین حق ) کا مستقبل بہت حد تک وابستہ ہے اور اس قوم میں ایسی بنیادی خوبیاں پائی جاتی ہیں کہ اگر ہم اس کو ( دین حق) کے لئے جیت لیں تو ساری دنیا ( دین حق) کے لئے فتح کرنی آسان ہو جائے گی۔اس پہلو سے ہماری ذمہ داریاں جہاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔چنانچہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ کچھ ہمیں باقی ملکوں کی نسبت اس ملک میں خدمت کے لئے بہت زیادہ آسانیاں میسر آتی ہیں لیکن ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے دو ایسے پہلو ہیں جن کی طرف میں خصوصیت سے آج آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔پہلی بات یہ کہ دعوت الی اللہ کے متعلق میں بارہا خطبات میں اعلان کر چکا ہوں اور بیان کر چکا ہوں اور اس کی اہمیت بیان کر چکا ہوں ہر رنگ میں میں نے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جب تک ہر احمدی نوجوان (مربی) نہیں بن جاتا اس وقت تک ( دین حق کی فتح کی باتیں کرنے کا ہمیں حق ہی کوئی نہیں ہر احمدی جوان ہی کو نہیں ہر احمدی بوڑھے کو بھی (مربی) بنا پڑیگا ہر احمدی عورت کو بھی ( مربی ) بننا پڑے گا ہر احمدی