مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 263

263 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم جھونکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔اس لئے دنیا میں جتنی بھی بڑی جنگیں ہوئی ہیں سب سے زیادہ تعداد میں نوجوانوں نے اپنے آپ کو ملک کی خاطر پیش کیا اور سب سے زیادہ تعداد میں نو جوانوں نے اپنی زندگیاں پیش کیں۔کچھ تو اس لحاظ سے بھی طبعی بات ہے کہ جوان ہی ایسے موقعوں پر آگے آیا کرتے ہیں مگر کچھ اس لحاظ سے بھی کہ جوانوں اور نسبتاً بڑی عمر کے سپاہیوں اور فوجیوں کا اگر آپس میں موازنہ کر کے دیکھا جائے تو نوجوانوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جانی قربانی اور بعض صورتوں میں مالی قربانی کی زیادہ استطاعت ہوتی ہے۔جرمن قوم سعید فطرت ہے پس اس پہلو سے جرمنی کو باقی ممالک پر ایک فوقیت حاصل ہے کہ یہاں احمدیوں کی زیادہ تر تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے ایک اور پہلو ہے وہ یہ کہ یہاں کی جو قوم ہے یعنی جرمن قوم وہ یورپ کی باقی قوموں کی نسبت زیادہ سعید فطرت اور سعادت مند ہے۔جرمن قوم کے متعلق ایک وہ تصور تھا جو ہم نے دور سے سنا تھا یا دوسرے یورپینز کے پراپیگنڈا کے نتیجہ میں ہم تک پہنچا اور وہ یہ تھا کہ یہ نہایت کرخت قوم ہے اور انسانی قدروں سے تقریبا عاری ہے اور بہت ہی سخت مزاج اور غیروں کو نہ قبول کرنے والی، دھت کار نے والی لیکن ایک وہ جرمن قوم ہے جو قریب آنے سے ہم پر ظاہر ہوئی اور اس پہلو سے اُس تصور سے بالکل مختلف تصور ابھرتا ہے جو غیروں نے پراپیگینڈا کے طور پر جرمن قوم کا باہر کے ملکوں میں باندھا تھا ایک انتہائی سعید فطرت اور ذمہ دار قوم ہے جو سنجیدہ مزاج رکھتی ہے اور جس کام کو صحیح سمجھے اس کو بڑی سنجیدگی کے ساتھ اس کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کرتی ہے جہاں تک غیروں کو قبول کرنے یا دھتکارنے کا تعلق ہے باوجود اس کے کہ یورپ کے بعض اور ممالک کی اقتصادی حالت مثلاً سویڈن کی اقتصادی حالت جرمنی کی اقتصادی حالت سے بہت بہتر ہے اور ملک کی وسعت کے لحاظ سے آبادی بھی بہت کم ہے اس کے مقابل پر جرمن قوم اقتصادی لحاظ سے اگر چہ بہت مضبوط ہے لیکن سویڈن کے مقابل پر نہیں اور ملک کی وسعت کے لحاظ سے اس قوم کی تعداد بہت زیادہ ہے اور Congestion ہے ضرورت سے زیادہ آدمیوں کا تھوڑے رقبے میں اکٹھے ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔اس کے باوجود جرمن قوم نے جس فراخدلی کے ساتھ جس وسعت قلبی کے ساتھ باہر کے مظلوم انسانوں کے لئے اپنے ملک کے دروازے کھولے ہیں یورپ کی کوئی دوسری قوم اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔اس لحاظ سے اسلئے اس قوم کو تنگ دل کہنا یا غیروں