مشعل راہ جلد سوم — Page 243
مشعل راه جلد سوم 243 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی حضور رحمہ اللہ نے ذیلی تنظیموں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:- ذیلی تنظیموں کی ذمہ داری جب میں نے جماعت کو تنبیہ کی تو خصوصیت سے انصار اللہ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ ، یہ تینوں تنظیمیں میرے سامنے تھیں۔جماعت احمدیہ کے اصل بنیادی نظام کا ڈھانچہ تو صدارت یا امارت کا نظام ہے لیکن اس قسم کے کاموں میں جہاں War Footing (جنگی بنیادوں ) پر کام کرنے ہوتے ہیں وہاں تقسیم کار کے اصول پر کار بند ہونا ضروری ہوتا ہے۔مثال کے طور پر جب کوئی قوم ایک عظیم جنگ میں مصروف ہو جائے تو اگر کاموں کو تنظیموں کے اندر بانٹ دیا جائے تو وہ کام زیادہ عمدگی کے ساتھ زیادہ تفصیل کے ساتھ نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔اس لئے جماعتوں کی ان تین تنظیموں سے میں خصوصیت کے ساتھ مخاطب ہوں کہ یہ اپنے اپنے دائرے میں بہت محنت اور کوشش کریں۔ماؤں پر بہنوں پر بھائیوں پر یعنی خاندان کے اندر والدین پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس لئے کہ وہ آخری صورت میں خدا کے سامنے جواب دہ ہیں۔ہر خاندانی یونٹ کسی نہ کسی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے اس لئے جیسا کہ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ نماز کے قیام کا آخری کارخانہ خاندان ہی ہوگا اس کارخانے تک پہنچنے کے لئے اسے بیدار کرنے کے لئے اسے حرکت دینے کے لئے جماعت کی مختلف تنظیمیں قائم ہیں۔پس لجنہ عورتوں کو تو متوجہ کرے اور آخری نظر اس بات پر رکھے کہ اہل خانہ کے اندرنماز قائم کرنے کی ذمہ داری خود اہل خانہ کی ہے۔لجنہ عورتوں سے کہے کہ آپ ہم سے سیکھیں اور پھر اپنے بچوں کو سکھائیں ،اپنے خاوندوں کو اپنے بیٹوں کو اپنی بیٹیوں کو بار بار پانچ وقت نماز کی طرف متوجہ کرتی رہیں۔جو مر دیا بچے نماز کے وقت گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں۔۔۔عورتیں ان کو اٹھا ئیں کہ تم نماز پڑھنے جاؤ، نماز پڑھ کر واپس آؤ پھر آرام سے بیٹھ کر کھانا کھائیں