مشعل راہ جلد سوم — Page 244
244 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم گے اسی طرح بچوں کو بھی نماز کے لئے تیار کریں اور گھر کی بیٹیوں پر نظر رکھیں کہ وہ نماز ادا کر رہی ہیں۔والدین میں سے باپ کی ذمہ داری ہے مگر بیٹیوں کے معاملہ میں باپ کے اوپر کچھ مشکلات بھی ہوتی ہیں اس کو یہ پتہ نہیں لگتا کہ اس نے کب نماز پڑھنی ہے کب نہیں پڑھنی اس لئے وہاں جب تک ماں مددنہ کرے اُس وقت تک باپ پوری طرح اپنے فرائض کو ادا نہیں کر سکتا۔اور بھی بہت سے مسائل ہیں نماز سے تعلق رکھنے والے جو ماں سکھا سکتی ہے۔اس لئے جہاں تک لجنہ کا تعلق ہے وہ عورتوں کو سنبھالیں اور بچیوں کو سنبھالیں اور گھر کے اندر ان کو طریقے بتائیں کہ اس طرح تم نے اپنے گھروں میں نماز کو قائم کرنا ہے۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ لجنہ نماز کی تلقین شروع کر دے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ لجنہ گھروں میں نماز قائم کرنے کے طریقے سمجھائے اور مستورات کو یہ بتائے کہ تم نے نماز کے قیام کے سلسلہ میں سوسائٹی کی کیا مدد کرنی ہے۔اور پھر لجنہ یہ رپورٹیں لے کہ عورتیں کس حد تک نماز کو اپنے گھروں میں قائم کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔یہ ذمہ داری ہے جو میں لجنہ پر ڈال رہا ہوں۔اسی طرح خدام نو جوانوں کو صرف یہ تلقین نہ کریں کہ تم نماز میں آؤ بلکہ یہ تلقین کریں کہ تم خود بھی آؤ اور اپنے بھائیوں کو بھی نماز پر قائم کرو اور اپنے والدین کو بھی نماز پر قائم کرنے کی کوشش کرو کیونکہ بعض جگہ ایسا بھی ہورہا ہے کہ بچے تو نماز کے پابند ہیں لیکن بڑے خود نماز کی ادائیگی میں غفلت برت رہے ہیں۔بعض نو جوان بچے مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہمیں بہت تکلیف ہے، ہمارے والد صاحب نماز نہیں پڑھتے ، ہم بہت سمجھاتے ہیں لیکن وہ توجہ نہیں دیتے ان کو نماز کی عادت ہی نہیں اس لئے آپ ان کو خط لکھیں۔چنانچہ ایک بچے نے بڑے درد سے مجھے لکھا، میں نے اس کی خواہش کے مطابق اس کے والد کو خط لکھا اور پھر مجھے وہاں کی امارت سے اطلاع ملی کہ اس خط نے اثر کیا ہے اور خدا کے فضل سے اُس نے نماز شروع کر دی ہے۔مجھے بڑی خوشی ہوئی۔اگر ایسے نوجوان اپنے والدین کو نماز کا پابند بنانے کے لئے بے قرار ہوں تو وہ بھی بڑا کام کر سکتے ہیں اس کے ساتھ اگر وہ دعا بھی مانگیں کے تو اس سے بہت غیر معمولی فائدہ پہنچے گا۔دوسروں کو دعاؤں کی تحریک کریں گے تو اس طرح بھی خدا کے فضل سے فائدہ پہنچے گا۔انصار کو یہ توجہ دلانی چاہیے اپنے ممبران کو ، کہ تم اس عمر میں داخل ہو گئے ہو جس میں جواب دہی کے قریب تر جا رہے ہو۔ویسے تو ہر شخص ایک لحاظ سے ہر وقت ہی جواب دہی کے قریب رہتا ہے لیکن انصار بحیثیت جماعت کے اپنی جواب دہی میں قریب تر ہیں۔اور جو وقت پہلے گزر چکا ہے اس میں اگر کچھ خلارہ