مشعل راہ جلد سوم — Page 197
197 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اور ایسی تصویریں جن میں سائنس کی ترقیات زندگی کے واقعات اور جانوروں کے حالات اور اس قسم کی دوسری چیز میں دکھائی جائیں جن کو دیکھ کر بچے لطف بھی اٹھاتے ہیں اور ان کا علم بھی بڑھتا ہے۔اس قسم کی چیزوں کو رواج دینا چاہیے۔ٹیلیویژن کے بے ہودہ کھیلوں اور گانوں کی بجائے ایسی وڈیو ریکارڈنگ تیار ہونی چاہیے جس میں بچہ نہایت ہی سریلی آواز سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام سنار ہا ہو یا اور نظمیں پڑھ رہا ہو۔اسی طرح تلاوت بھی بچوں کی نہایت ہی سریلی آواز میں سنائی جائے اور سکھائی جائے۔اس قسم کے بہت سے پروگراموں کی ہمارے پاس گنجائش موجود ہے۔باہر سے بھی مطالبے ہورہے ہیں۔چنانچہ میں جن ملکوں میں بھی گیا ہوں وہاں کی ہر جماعت کی طرف سے یہ مطالبہ بڑی شدت کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے کہ بچوں کو گندے ماحول سے بچانے کا انتظام کیا جائے۔وہ کہتے ہیں ہم اپنے بچوں کو ایسے سکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں جہاں وہ مغربی تہذیب کی برائیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ایسے اثرات کو مٹانے کے لئے جماعت ہماری مدد کرے۔ورنہ اگر ان باتوں میں زیادہ دیر گزر گئی تو ہوسکتا ہے ہمارے بچے ہاتھ سے نکل جائیں۔ان کے رجحانات بدل جائیں۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ احمدی بچوں میں ابھی سعادت اور نیکی کا مادہ موجود ہے۔اس عمر میں ان کو سنبھالا جائے تو جلدی سنبھل سکتے ہیں۔چنانچہ جہاں کہیں مجھے جانے کا موقع ملا میں نے دیکھا کہ جب ہم شروع میں جاتے تھے تو اُس ماحول کے پیدا ہوئے ہوئے بچوں کی آنکھوں میں عجیب اجنبیت پائی جاتی تھی۔بچوں کی طرز زندگی ، اُن کا اُٹھنا بیٹھنا ہم سے بالکل مختلف ہوتا تھا۔وہ سمجھتے تھے پتہ نہیں کس دنیا کے لوگ یہاں آگئے ہیں اور ہم سے کیا باتیں کریں گے۔جب اُن کے والدین کبھی پیار سے سمجھا کر اور کبھی تھوڑا سا ڈانٹ کر مجالس میں لے کر آتے تھے اور بٹھاتے تھے اور اُن کو باتیں سُناتے تھے۔پھر اُن کو کہتے تھے کہ تم اپنے سوال بھی کرو۔چنانچہ بعض بچے اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کے متعلق سوال بھی کرتے رہے۔تو بلا استثنا ہم نے یہ دیکھا کہ تھوڑے عرصہ کے اندر اندر اُن بچوں کی یہ کیفیات بدل گئیں۔اُن کے اندر غیر معمولی محبت اور پیار کا جذبہ پیدا ہو گیا۔احمدیت کے ساتھ ایک گہرا تعلق قائم ہو گیا اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اُن کی نگاہوں کا اجنبی پن بالکل مٹ گیا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ اب باہر کی چیزیں نہیں بلکہ اندر کی چیزیں بن گئے ہیں۔وہ جماعت کے وجود کا ایک حصہ بنتے نظر آرہے تھے۔احمدی بچوں نے ساری دُنیا کے بوجھ اُٹھانے ہیں۔پس اُن کا یہ مطالبہ تو درست ہے کہ ان کے بچوں کی تربیت کے لئے جماعت اُن کی مدد کرے۔لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ مرکز کی طرف سے ایسے دورے ہوں