مشعل راہ جلد سوم — Page 139
139 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم کہ یہ جو بار بار کہا گیا ہے کہ نماز کو کھڑا کرو، کھڑا کرو، کھڑا کرو، اور بڑی کثرت کے ساتھ مختلف طریق پر بیان کیا گیا، اس سے اس طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ نماز از خود کھڑی نہیں ہوا کرتی۔جب بھی تم اس کی طرف سے غافل ہو گئے، یہ گر پڑے گی۔جس طرح ٹینٹ یعنی خیمہ بانس کے سہارے کھڑا ہوتا ہے،اگر بانس نہیں رہے گا تو خیمہ زمین پر آپڑے گا، کمرے کی طرح کی چیز تو نہیں کہ از خود کھڑا رہے۔اسی طرح عبادت بھی ایک ایسی چیز ہے جو از خود کھڑی نہیں ہوتی۔اس کی طرف بار بار توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ کی آیت إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں یہی مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اے خدا! ہم کمزور ہیں اور عبادت مشکل کام ہے ، ذرا بھی اس سے غافل ہوئے تو اس کا حق ادا کرنے کے اہل نہیں رہیں گے، اس لئے ہر نماز کی ہر رکعت میں ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں التجا کرتے ہیں کہ ہمیں توفیق بخش کہ ہم نماز کا حق ادا کرسکیں۔اس لئے خصوصیت کے ساتھ نماز کی طرف توجہ دلانا ہمارا اولین فرض ہونا چاہیے۔سارا نظام اس چیز کو ہمیشہ اولیت دے۔دوسرے اس لئے بھی اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کہ مذہب کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔حقوق العباد اس کا دوسرا حصہ ضرور ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عبادت کے بغیر حقوق العباد کی ادائیگی کا جذ بہ بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔دنیا کی کسی قوم نے کبھی حقوق العباد نہیں سیکھے جب تک کہ اللہ نے نہ سکھائے ہوں، صحیح معنوں میں حقوق العباد کی آخری بنیاد میں مذہب میں ہی ملتی ہیں۔اس کے سوا تو باقی سب کچھ چھینا جھپٹی اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنا ہے۔حقوق العباد کے نام پر ظلم کی تعلیم تو دی گئی ہے لیکن انسان نے کسی کو حقوق العباد نہیں سکھائے۔جتنی بھی دنیوی تعلیمات ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حقوق العباد حقیقت میں مذہب سے ہی نکلے ہیں اور وہی لوگ حقوق العباد ادا کر سکتے ہیں جو پہلے اللہ کی عبادت کا حق ادا کریں۔جن کی عبادتیں کمزور پڑ جائیں وہ حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔جو حقوق اللہ ادا نہیں کرتے ، وہ جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم حقوق العباد ادا کرتے ہیں۔کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ انسان خدا کی عبادت تو نہ کرتا ہو لیکن خدا کے بندوں کے حقوق ادا کر سکے۔نماز کی بنیادی صفات چنانچہ قرآن کریم اس مضمون کو بہت کھول کر بیان کرتا ہے۔فرماتا ہے:۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُون (الماعون: 6-5) کہ اگر چہ نماز انسان