مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 140

مشعل راه جلد سوم 140 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کے لئے زندگی اور اس کی بقا کا موجب ہے اور اس کو فلاح کی طرف لے جاتی ہے۔لیکن کچھ نمازیں ایسی ہوتی ہیں جو ہلاکت کا پیغام دیتی ہیں۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَلّین ہلاک ہو جائیں ایسے لوگ ایسے نمازیوں پر لعنت ہو۔الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُون جونمازیں تو پڑھتے ہیں لیکن غفلت کی حالت میں پڑھتے ہیں۔اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ نماز کی ذمہ داریوں سے غافل رہتے ہیں۔نماز جن تقاضوں کی طرف بلاتی ہے یا جن تقاضوں کی طرف بلانے کے لئے نماز پڑھی جاتی ہے ان سے غافل ہو جاتے ہیں یعنی نہ اللہ کی محبت ان کے دل میں پیدا ہوتی ہے، نہ محض اللہ کام کرنے کی عادت ان کو پڑتی ہے اور نہ وہ حقوق العباد ادا کرتے ہیں۔یہ ساری چیزیں نماز کی بنیادی صفات ہیں۔چنانچہ ہلاکت والی نماز ادا کرنے والوں کی یہ تعریف بیان فرمائی گئی الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ هِ الَّذِينَ هُمْ يُرَآءُ وُنَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ( الماعون : 6 تا 8 ) یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کے بنیادی مقاصد سے غافل ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ریا کاری کی خاطر نماز پڑھنے لگتے ہیں۔اپنے رب کی خاطر نہیں پڑھتے۔اس طرح نماز کے بنیادی مقصد یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق کے قیام سے محروم رہ جاتے ہیں اور جو خدا کے ساتھ تعلق قائم کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ان کی قطعی علامت یہ ہے کہ وہ خدا کے بندوں سے بھی کٹ جاتے ہیں۔جو خدا کے حقوق ادا نہیں کرتے ، یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ بندوں کے حقوق ادا کر سکیں چنانچہ فرمایا:- وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُونَ کہ یہ لوگ اتنے خسیس ، اتنے کم ظرف ہو جاتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی معمولی معمولی ضرورتیں پوری کرنے سے بھی گریز کرنے لگ جاتے ہیں۔ان کی حالت یہاں تک ہو جاتی ہے کہ اگر ان کے ہمسائے نے آگ مانگی ہے تو اس سے ان کو تکلیف پہنچتی ہے یا تھوڑی دیر کے لئے مثلاً ایک ہنڈیا طلب کی ہے تو اس سے بھی تکلیف پہنچتی ہے۔یمنعون الماعون میں دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ایک یہ کہ خود بھی منع رہتے ہیں اور دوسرے یہ کہ اپنے بچوں کو اور اپنے ماحول کو بھی کہتے ہیں کہ اس نے یہ کیا رٹ لگارکھی ہے، ہمسائی بار بار مصیبت ڈالتی رہتی ہے کہ فلاں چیز دو اور فلاں بھی دو، اس کو یہ چیز ہر گز نہیں دینی۔نماز اور عبادت کا خلاصہ یہ بیان فرمایا کہ اس کے بغیر نہ اللہ سے تعلق قائم ہوتا ہے، نہ اس کی مخلوق سے۔اسی لئے بنی نوع انسان کے حقوق کا ذکر عبادت کے بعد کیا جو بیشتر حد تک مِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ کی ذیل میں آ جاتے ہیں بلکہ اگر اس کی وہ تعریف کی جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے تو