مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 105

105 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم پس ہیں تو یہ الگ الگ سڑکیں اس میں کوئی شک نہیں۔بظاہر الگ الگ ہیں مگر چورا ہے ضروری ہیں اور قرآن کریم کا مطالعہ کریں تو آپ کو بکثرت یہی نظر آئے گا۔دین کی گفتگو ہورہی ہے تو اچانک خدا تعالیٰ ذہن کو قانون قدرت کے کسی Phenomenon یعنی کسی جلوہ یا کسی اصول کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔قانون قدرت کی بات شروع کرتا ہے تو اچانک ذہن کو دین کی طرف منتقل کر دیتا ہے اور اس کثرت کے ساتھ ان دونوں میں چورا ہے موجود ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ گویا ان کا ایک دوسری کے ساتھ تانا بنا ہوا ہے اس کثرت سے اور بار بارسڑکیں ملتی ہیں کہ علیحدگی کا گمان مٹ جاتا ہے۔اس کا جو نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے۔وہی مومن کا نقشہ ہونا چاہیے۔یہ تو نہیں کہ قرآن کا ئنات کا کوئی اور نقشہ بنارہا ہو اور ہم اپنا نقشہ کوئی اور بنا رہے ہوں۔اس لئے دینی علم اور دنیاوی علم کا آپس کا انطباق کرنا بہت ضروری ہے۔یعنی دینی Channels کی اس طرح بار بار اصلاح کرنا کہ ہر بات خود بخود ایک دوسرے کے ساتھ منطبق ہوتی چلی جائے۔یہ بہت اہم اور ضروری کام ہے۔چرچ اور سائنس میں چپقلش گزشتہ ایک دوصدیوں میں بہت بڑا ظلم ہوا ہے۔سائنس جب یورپ میں بیدار ہوئی تو اس وقت چونکہ چرچ کے خلاف ایک بغاوت کا دور بھی تھا اور چرچ نے بھی سائنس کے خلاف بڑا ظالمانہ رویہ اختیار کر رکھا تھا۔اس لیے رفتہ رفتہ سائنس دانوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ سائنس بالکل الگ چیز ہے اور مذہب بالکل الگ چیز ہے۔یعنی انہوں نے بغاوت کی راہ اختیار کرتے ہوئے مذہب کو نہ صرف ایک الگ چیز سمجھا بلکہ اسے ایک بوسیدہ اور بے معنی اور لغو اور بے دلیل چیز سمجھنے لگ گئے اور سائنس کو معقولات کی دنیا، دلائل کی دنیا، مشاہدات کی دنیا، تجارب کی دنیا محسوسات کی دنیا سمجھنے لگ گئے۔سائنس اور مذہب کا رشتہ ٹوٹنے کا نقصان مذہب اور سائنس کے درمیان دوری کا نتیجہ یہ نکلا کہ آہستہ آہستہ سائنس دہریت کا نام بن گیا اور مذہب ایسے خدائی تصورات کا جن کا حقیقت اور عقل سے کوئی تعلق نہ ہو چنانچہ مذہب اور سائنس کے آپس کے رشتہ ٹوٹنے سے بہت گہرا نقصان پہنچا ہے۔اس نہج پر چلتے ہوئے رفتہ رفتہ مذہب اور سائنس آپس میں الگ ہوئے کہ مذہب گلیہ ایک نئی شکل اختیار کر گیا اور سائنس الگ ہو کر بالکل ایک نئی شکل اختیار کر گئی