مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 96

96 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کے مزاج اور عادتوں کے فرق کی وجہ سے لباس کا فرق تو ہوتا رہتا ہے لیکن نیکی کے تصور میں گندا لباس پہننا ہرگز شامل نہیں ہے۔قرآن کریم میں یا سنت نبوی میں کہیں بھی یہ مضمون نہیں ملتا کہ تم نیک تب بنو گے جب کیسے ہوئے کپڑے پہنو گے یا پھٹے ہوئے کپڑے پہنو گے۔ہاں کاموں کی زیادتی کی وجہ سے ، اعلیٰ مقاصد میں انہماک کی وجہ سے بعض دفعہ کپڑے بالکل ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔اس وقت عمد ا جان بوجھ کر ان کو نظر انداز نہیں کیا جاتا بلکہ ان کی انسانی نظر میں کوئی قیمت یا اہمیت نہیں رہتی۔تب لوگ کپڑوں کے رکھ رکھاؤ سے بالا ہو جاتے ہیں۔یہ بالکل الگ مضمون ہے۔اس صورت میں نعوذ باللہ خدا کی نعمت کا انکار نہیں ہورہا ہوتا بلکہ دوسری نعمتیں اتنی غلبہ پا جاتی ہیں کہ اس کے مقابل پر یہ چیزیں بے معنی اور حقیر دکھائی دیتی ہیں مگر اس لئے نہیں کہ زیادہ نیک بنیں بلکہ بالکل اور مقصد کے پیش نظر کپڑوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔صاحب علم کی عظمت لباس میں نہیں یہی حال غیر قوموں میں بھی ہے مثلاً انگلستان کی یونیورسٹیوں میں میں نے دیکھا ہے کہ جو حقیقتا صاحب علم لوگ ہیں خواہ اساتذہ ہوں یا طلبہ ہوں، وہ کپڑوں کی نسبت کلینہ بے نیاز ہو جاتے ہیں۔انہیں دیکھ کر کوئی سمجھ ہی نہیں آتی کہ انہوں نے کیا پہنا ہوا ہے۔انہوں نے کھلے پہنے ہوں، تھیلے پہنے ہوں، ان کو احساس تک نہیں ہوتا کہ دنیا کیا سمجھ رہی ہے بلکہ اسی لباس میں ان کے لئے ایک وقار پیدا ہو جاتا ہے۔ایک عظمت پیدا ہو جاتی ہے۔لوگ ان کو دیکھتے ہیں اور پہچان لیتے ہیں کہ یہ صاحب علم لوگ ہیں۔اس لئے لباس کی زینت سے منع تو نہیں کیا گیا لیکن لباس پر اس طرح جھک جانا کہ اعلیٰ مقاصد کی راہ میں حائل ہو جائے، یہ منع ہے اور اس صورت میں وہ لباس طیب نہیں رہے گا۔اس لئے آپ اگر سر کے لئے ٹوپی کے طور پر کوئی زینت اختیار کرنا چاہیں تو خوبصورت اور اچھی ٹوپیاں پہنیں نئی بی قسم کی ٹوپیاں ایجاد کر یں۔کوئی اعتراض نہیں ہے مگر سر ڈھانپ کر پھریں تاکہ پتہ لگے کہ یہ احمدی نوجوان ہیں ان پر دوسری تہذیب کا قطعا کوئی اثر نہیں۔یہ آزاد مر دہیں۔ان کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ دنیا ہمیں کیا کہتی ہے اور کیا نہیں کہتی۔غیر زبان جاننے والوں کی کمی دوسری بات جو اس لحاظ سے پہلی ہے کہ میں نے دو باتیں جو آپ سے کرنی تھیں ان میں سے یہ پہلی