مشعل راہ جلد سوم — Page 87
مشعل راه جلد سوم 87 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گیا۔ایسے بے شمار واقعات ہیں جو بات کرو تو کھلتے چلے جاتے ہیں۔بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے۔یوں لگتا ہے جیسے کوئی نہ ختم ہونے والی کہانی ہے۔جب میں آیا تھا بات شروع کرنے کے لئے میرا ذہن اس وقت بالکل خالی تھا۔مگر مجھے علم تھا کہ یہ مضمون ہی ایسا ہے جب میں اس میں داخل ہوں گا تو اللہ تعالیٰ ایک کے بعد دوسری راہ کھولتا چلا جائے گا۔میں پہلے پریس کے متعلق بیان کر رہا تھا۔اس کے متعلق اب آخر پر ایک دلچسپ واقعہ سنا دیتا ہوں۔چونکہ یہ مضمون تو ایک قسط میں ادا ہونے والا ہے ہی نہیں۔آپ لوگوں نے واپس بھی جانا ہے اس لئے مجھے ختم کرنا چاہیے۔پریس میں میں نے یہ محسوس کیا کہ جب وہ دیکھتے تھے کہ ( دین حق ) کی (دعوت الی اللہ ) شروع ہوگئی ہے اور اثر پڑنے لگ گیا ہے یعنی خود پریس والوں پر بھی ایسا نمایاں اثر پڑنے لگ جاتا تھا کہ وہاں ہاں میں ہاں ملانے لگ جاتے تھے۔اور یہ عجیب بات تھی۔تو ان میں سے بعض جو ( دین حق) کے خلاف کچھ تعصب رکھتے تھے وہ چاہتے تھے کہ رخ اس طرح پلئے کہ کسی طرح ( دین حق ) کے خلاف بات ہو جائے۔ان کے پاس دو ہتھیار تھے۔ایک یہ کہ ایران کے خلاف وہاں کے پریس نے اتنا شدید اور ظالمانہ پرو پیگنڈا کیا ہوا ہے کہ مجھے پتہ نہیں وہاں ایران میں کیا ہوتا ہے۔لیکن جو تصویر وہاں کھینچ رکھی ہے وہ اتنی بھیانک ہے اور ( دین حق) کے ساتھ اس طرح باندھ رکھی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر خمینی صاحب کا نام لے کر سوال کیا جائے تو یہ لوگ پھنس جائیں گے۔اگر مخالفت کریں گے تو ایک اسلامی سربراہ مملکت کی مخالفت کر رہے ہوں گے۔اگر تائید کریں گے تو ہم کہیں گے دیکھو جی یہ وہی اسلام ہے۔چنانچہ یہ ایک سوال ضرور ہوتا رہا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق عطا فرمائی جس رنگ میں جواب دیا وہ پھر کسی وقت بیان کروں گا۔ورنہ میرے انصار بھائی کہیں گے ابھی ابھی انصار سے نکل کر آئے ہو ساری باتیں خدام کو بتا دیں ہمارے لئے کیا رکھا ہے۔تو وہ فکر نہ کریں ان کو بتانے کے لئے بہت موجود ہیں۔عورت اور اسلام دوسرا سوال تھا عورتوں کے متعلق کہ ( دین حق ) عورت پر ظلم کرتا ہے۔عورت سے یہ سلوک کرتا ہے وہ سلوک کرتا ہے۔اس کا جواب دینے کی بھی اللہ تعالیٰ اس رنگ میں توفیق دیتا تھا کہ بعض دفعہ عورت نمائندہ خود اقرار کرتی تھیں پریس کانفرنس میں کہ اسلام تو عورت کو مغربی سوسائٹی سے زیادہ عزت کا مقام دیتا ہے۔