مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 86

86 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم یہ تقریب آئی اور گزرگئی اور ہماری طرف سے اس کی تفصیلی رپورٹیں بھیجنے کا کوئی مناسب انتظام ہی نہیں تھا۔ہماری طاقت ہی نہیں تھی۔لیکن حیرت انگیز طور پر یورپ کے سارے ممالک نے اس کو Cover کیا۔کس طرح کیا۔کیا واقعہ ہوا۔مجھے تو سمجھ نہیں آیا بیسیم ملک باقی رہتا تھا۔تقریب کے دوسرے دن میں بیٹھا ہوا تھا تو اچانک دیکھا کہ ایک تحکیم کا نمائندہ بھی پہنچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر یہ خبریں سنیں اور میں حیران رہ گیا کہ میں اس کو کس طرح miss کر گیا ہوں۔اس لئے میں میڈرڈ سے صرف اس غرض آیا ہوں کہ آپ مجھے انٹرویو دیں اور میں اسے اپنے ریڈیو سے نشر کرواؤں۔چنانچہ وہ خودانٹرویو لے کر گیا اور شائع کیا۔آنے سے پہلے سوئٹزر لینڈ سے دو بڑی دلچسپ خبریں موصول ہوئیں۔ایک یہ کہ جنیوا جہاں ہم نے کوئی پریس انٹرویو دیا ہی نہیں۔واقف ہی نہیں وہاں کے پریس کے۔وہاں کے سب سے زیادہ کثیر الاشاعت اخبار کی Cutting آئی۔جس نے اتنی تفصیل سے ( بیت ) سپین پر اور احمدیت پر مضمون لکھا ہے کہ اس کو پڑھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے کہ اس کو کیا سوجھی ہے بیٹھے بٹھائے احمدیت پر اور بیت بشارت پر اتنا شاندار مضمون لکھ دیا ہے۔اور وہ وہاں کا کثیر الاشاعت اخبار ہے۔سوئس عیسائی کا قبول حق اور دوسری خبر جس سے دل باغ باغ ہو گیا وہ یہ تھی کہ ایک سوئس عیسائی جو گزشتہ کئی سال سے سپین میں آباد ہوا ہوا تھا وہ سوئٹزر لینڈ کے مشن میں پہنچا۔پہلے خط کے ذریعہ رابطہ قائم کیا پھر خود پہنچ کر اس نے یہ واقعہ سنایا۔اس نے کہا کہ میں پچھلے پانچ سال سے سوچ رہا تھا کہ ( دین حق ) اچھامذ ہب ہے۔میں ( مومن ) ہونا چاہتا تھا۔لیکن کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا کروں۔میں نے بڑے بڑے مسلمان بادشا ہوں کو خط لکھے۔شیعوں سے بھی رابطہ کیا۔سنیوں سے بھی رابطہ کیا۔مختلف ممالک کے علماء سے ملا۔انہوں نے بھی از راہ شفقت اپنے علماء بھجوائے اور میری گفت و شنید ہوئی۔لیکن مجھے یوں لگتا تھا کہ دل پر ایک تالا ہے جو کھلنے میں نہیں آتا۔چند دن پہلے میں بیٹھا ٹیلی ویژن دیکھ رہا تھا تو اچانک بیت بشارت کا افتتاح شروع ہو گیا۔اور دیکھتے دیکھتے مجھے یوں محسوس ہوا کہ آسمان سے کوئی ہاتھ آیا اور اس نے چابی سے تالا کھول دیا ہے۔اس ہاتھ نے وہ تالا کھول دیا اور مجھے اسی وقت پوری طرح انشراح ہو گیا اور مجھے معلوم ہو گیا کہ خدا اسی لئے مجھے رو کے ہوئے تھا کہ یہ دین حق) ہے جس میں مجھے داخل ہونا چاہیے۔چنانچہ وہ اسی وقت بیعت کر کے