مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 614 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 614

614 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کچھ میں نے یہاں دیکھا ہے یہ جن دیہات یا قصبات سے آنے والے لوگ ہیں وہاں انہوں نے یہ کچھ نہیں دیکھا تھا۔وہاں کی حالت اور تھی۔پس ہجرت کے کچھ تو ظاہری فوائد ہیں جو آپ کو دکھائی دے رہے ہیں لیکن یہ روحانی فائدہ ہے جو اصل فائدہ ہے۔ہجرت کے متعلق جو اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہجرت کرو گے تو تمہیں وسعت عطا ہو گی۔اگر صرف مالی وسعت ہوتی تو دنیا تو مالی وسعتوں سے بھری پڑی ہے۔اصل وسعت یہ ہے جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اللہ کا وعدہ ہمارے حق میں بڑی شان سے پورا ہوا ہے۔جس ملک میں ہمیں کلمہ تک پڑھنے کی اجازت نہیں تھی ، جس ملک میں نمازوں پر قدغن تھی ، اس ملک میں ایسی جماعتوں کی بڑی تعداد تھی جن کو ویسے ہی نمازیں نہیں آتیں۔نمازوں پر قدغن کی وجہ سے بلکہ نمازوں کی طرف توجہ ہوئی ہے۔میں دورے کرتا رہا ہوں اور بڑی محنت کی میں نے اپنی طرف سے جہاں تک کوشش کی اور جتنی کوشش کر سکتا تھا کرتا رہا، وقف جدید میں بھی ، خدام الاحمدیہ میں بھی ، انصار اللہ میں بھی ہر مجلس کے دورے میں میں نماز کو اولیت دیتا رہا ہوں اور نماز کو اولیت دیتے ہوئے جب ان کا میں امتحان لیا کرتا تھا تو بہت دل کو تکلیف پہنچتی تھی۔اکثر ان کے نماز پڑھتے بھی تھے تو اس کے مضمون سے ناواقف تھے۔مگر وہ لوگ جب یہاں آکر بسے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے جس وسعت کا وعدہ فرمایا تھا اس کا نشان دیکھو کس شان سے پورا ہوا۔وہی بچے اگر اپنے دیہات میں سو سال بھی رہتے تو وہ کچھ نہ سیکھ سکتے تھے جو جرمنی پہنچ کر چند سالوں میں سیکھ رہے ہیں اور سیکھ گئے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ آپ کو مبارک کرے کہ آپ کی آئندہ نسلیں اسلامی قدروں کی محافظ بن جائیں گی اور اگلی صدی میں ان کا فیض نہ صرف صدی کے آخر تک پہنچے گا بلکہ اگلی صدیوں کو بھی ملے گا۔پس میں جماعت جرمنی سے اس پہلو سے بہت خوش ہوں کہ محض خدام الاحمدیہ ہی نہیں دراصل ساری جماعت اس کوشش میں بلکہ ملوث ہے۔خدام الاحمدیہ تو بطور خاص اس میں سب کچھ تن من دھن کی بازی لگائے ہوئے ہے۔اگر آپ ان کے ساتھ تعاون کریں گے تو یہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى کی تعلیم ہے۔اس تعاون کے نتیجے میں آپ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اہل ہوجائیں گے۔نماز سب سے پہلے اپنے دل کو تعلیم دیتی ہے۔اپنے نفس کو تعلیم دینی پڑتی ہے۔جب اپنا دل اور اپنا نفس نماز کے اثر کو قبول کرتا ہے تو وہ وجود نکلتے ہیں جو سب دنیا کو تعلیم دینے کے اہل ہو جاتے ہیں۔پس یہ تیاری صرف جماعت کی بہتری کے لئے نہیں بلکہ دنیا کی بہتری کے لئے ہے کیونکہ دنیا کی بہتری آج آپ سے منسوب ہو چکی ہے۔کوئی اور نہیں ہے جو خدا کی خاطر سب دنیا کی بھلائی کا مقصد لے کر اٹھے اور کوئی