مشعل راہ جلد سوم — Page 615
615 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم اور نہیں ہے جو بڑے وسیع پیمانے پر دنیا کی تربیت کا کام شروع کر چکا ہو۔پس جو میں نے وقت اپنے ذہن میں رکھا تھا ساڑھے سات تک وہ وقت تو ختم ہو گیا نصیحت کا یہ مطلب نہیں کہ ضرور لمبی تقریریں کی جائیں۔میں سمجھتا ہوں جو بات میں کہنی چاہتا تھا میں نے عمدہ لفظوں میں بیان کر دی ہے۔اس لئے میں عمدہ لفظ کہہ رہا ہوں کہ میں آپ کے چہرے دیکھ رہا ہوں، مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ میری باتیں آپ کے دل میں ڈوب رہی ہیں اور ان کے اثرات آپ کے چہروں پہ ظاہر ہورہے ہیں۔پس ان اثرات کی حفاظت کریں۔میں تو اب آپ سے الوداع کہوں گا اور پھر دوبارہ اللہ تو فیق عطا فرمائے تو جماعت جرمنی کے سالانہ جلسے میں حاضر ہوں گا۔اس عرصے میں جو میں نے نصیحتیں کی ہیں ان پر پہلے سے بھی زیادہ شدت سے عمل کریں اور جب میں آؤں تو مجھے نمایاں تبدیلیاں دکھائی دینے لگیں۔صرف ایک بات کی میں گزارش کروں گا کہ جو نو مبائعین ہیں ان کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ دیں وہ محتاج ہیں کیونکہ اللہ کی خاطر انہوں نے بھی تو ایک ہجرت کی ہے وہ اپنے ماحول کو چھوڑ کر آپ کے پاس آئے ہیں اور یہ خیال غلط فہمی ہے کہ جرمنی ایک آزاد ملک ہے اور یہاں لوگ دلوں کے اتنے وسیع ہیں کہ اگر کوئی خدا کو بھی قبول کر لے تو اس کا بُرا نہیں مناتے۔الٹ قصہ ہے۔جرمنی ایک آزاد ملک ہے جیسا کہ یورپ کے اور بہت سے آزاد ممالک ہیں ان کی آزادی کی نشانی یہ ہے کہ جب تک آپ خدا سے دور ہٹ رہے ہوں وہ راضی رہیں گے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔مگر جب خدا کو کوئی قبول کر لے تو اس کے ماں باپ کی طرف سے، اس کے ماحول کی طرف سے اس پر بہت دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ تم کیا بن گئے ہو اور اس سے معاشرتی تعلقات اکثر اوقات کاٹ لئے جاتے ہیں۔بہت کم ایسی مثالیں ہیں جہاں خاندان نے اپنی معاشرتی تعلقات کو جاری رکھا۔اللہ ان کو جزا دے۔مگر کثرت کے ساتھ سب نواحمدی مجھے بتاتے ہیں کہ ان کو اپنے ماحول، اپنے خاندان کی طرف سے عملاً علیحدہ کر دیا گیا ہے اور وہ محبت کا تعلق جاری نہیں رہا۔پس یہ بھی مہاجر ہیں۔صرف پاکستان سے آنے والے مہاجر نہیں ہیں یہ سارے اپنی اپنی قوموں سے جو احمدیت میں داخل ہورہے ہیں یہ مہاجرین ہیں ان کا آپ پر حق ہے اس حق کو آپ ہی نے پورا کرنا ہے پس آپ کی ہجرت کا خیال اللہ نے کیا، اس احسان کا شکر یہ ادا کرنے کے لئے جو اللہ کے نام پر مہاجر بنے ہوئے ہیں ان کی ہجرت کا خیال کریں، ان کی تربیت کریں، ان کو نمازیں سکھائیں۔اس کام پر جتنا وقت دے سکتے ہیں وہ دینے کی کوشش کریں۔اگر یہ سارے نئے آنے والے حقیقی نمازی بن جائیں تو وہ عظیم انقلاب جس کی مدت سے ہم راہ دیکھ رہے ہیں۔وہ آپ کے دروازے کھٹکھٹانے لگے گا۔وہ کل کی بات نہیں رہے گی