مشعل راہ جلد سوم — Page 604
604 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم مطلب یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے کوئی بھی امت ایسی نہیں تھی جو تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہو۔الناس میں سارے انسان شامل ہیں۔چنانچہ اس آیت کے پہلے حصہ میں ہی یہ دونوں مضمون بیان ہو گئے کہ لازماً پہلی امتیں وہ اپنے علاقوں اور قوموں کے لئے ہوا کرتی تھیں یعنی للناس محد و درنگ میں تھیں تمام بنی نوع انسان کے لئے نہیں تھیں۔کوئی امت اسلام سے پہلے ایسی نہیں نکلی جس کا تعلق ساری دنیا کی بھلائی سے ہو۔پس جس کا تعلق ساری دنیا کی بھلائی سے ہے وہ امت لازماً ان امتوں سے بہتر ہے جن کا تعلق علاقائی بھلائی سے تھا یا قومی بھلائی سے تھا۔اس کے بعد للناس کی تشریح فرما دی گئی ہے کہ الناس کن معنوں میں۔ان معنوں میں کہ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ۔سب سے اچھی بھلائی جو کسی کی طرف سے کسی کو پہنچ سکتی ہے ، وہ یہ ہے کہ اچھی باتوں کا حکم دیا جائے۔اچھی باتوں کی تلقین کی جائے وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ اور نا پسندیدہ باتوں سے روکا جائے اور تمام دنیا میں اگر خدا کے نام سے پیغام شروع کیا جائے تو یہ بعید نہیں کہ لوگ بھاگ جائیں اور منتشر ہو جائیں کہ یہ کس طرف بلا رہا ہے ہمیں۔کیونکہ اب بہت سے لوگ دہر یہ ہو چکے ہیں۔ایک بھاری تعداد ہے جو اللہ کے نام پر بھی آنا پسند نہیں کرے گی ،سوائے اس کے کہ آپ اللہ کی صفات اپنی ذات میں جاری کر کے خدا کو بنی نوع انسان کے لئے ایک بہت خوبصورت وجود کے طور پر دکھا ئیں۔یہ الگ مسئلہ ہے لیکن اس کے باوجود اس میں شک نہیں کہ آج دنیا کی اکثریت مذہب سے بھی متنفر ہے اور خدا کی ہستی کی قائل ہی نہیں رہی۔ایسی صورت میں ان کو کس طرف بلایا جائے؟ کیا ان کی خدمت ہو سکتی ہے؟ بہترین خدمت یہ ہے کہ وہ باتیں جو معروف ہیں، معروف سے مراد یہ ہے کہ ہر جگہ کا انسان انہیں اچھا سمجھتا ہے چاہے دہر یہ ہو، چاہے کا فربد کردار ہو لیکن یہ جانتا ہے کہ سچائی اچھی چیز ہے یہ جانتا ہے کہ بھلائی کرنا اچھی بات ہے خواہ خود بد بھی ہو لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا۔نہ کبھی کرتا ہے۔کوئی شخص سچائی کے خلاف جہاد نہیں کر سکتا سوائے شیطان کے پس بہترین امت ثابت کرنے کے بعد بہترین امت کی وہ تعریف ثابت فرما دی گئی جس کا تعلق سارے بنی نوع انسان سے ہے۔کوئی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتا۔معروف کا حکم دیں اور منکر سے روکیں۔اب یہ جو صورت حال ہے اس کا اطلاق اس وقت ساری دنیا پر یکساں ہورہا ہے۔ہر جگہ اچھی باتوں کو اچھا جانتے ہوئے بھی ان پر عمل نہیں ہورہا۔ہر جگہ بری باتوں کو برا سمجھتے ہوئے بھی ان سے پر ہیز نہیں ہو رہا۔پس قرآن کریم نے ایک ہی آیت میں کس قدر خوبصورت مضمون کو آگے بڑھایا