مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 597 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 597

مشعل راه جلد سوم 597 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔یعنی اپنے قدم خدا کی طرف بڑھانے کے لئے اپنے اوپر اس طرح خرچ کرتے ہیں کہ وہ مد اور مددگار ہو جائیں۔اب مِمَّا رَزَقْنهُمْ" میں وہ لوگ داخل ہیں جن کے پاس کاریں ہیں ، وہ دور کے سفر کر کے نمازوں کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔تو ” مِمَّا رَزَقْنَهُمْ“ میں ان کی کاریں ، ان کی سہولتیں شامل ہو جاتی ہیں۔وہ لوگ جو اپنے بچوں پر وقت خرچ کر کے محنت کرتے ہیں اور ان کو خدا والا بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی مِمَّا رَزَقْنَهُمْ“ میں آجاتے ہیں۔تو اموال سر دست ایک طرف رکھیں، یہ دیکھیں کہ آپ نے اپنے لئے اور اپنی اولاد کی تربیت کے لئے اپنی صلاحیتوں سے کیا فائدہ اٹھایا ہے۔اگر آپ وہ طاقتیں جو خدا نے آپ کو عطا کی ہیں ان کو اپنے اوپر اس طرح خرچ کرتے ہیں کہ خدا کے قریب تر ہو سکیں تو اپنے اوپر خرچ ہو یا اپنی اولاد پر خرچ ہو، یہ سب خدا ہی کی خاطر خرچ ہے اور غریبوں کی باری اور اموال کو جماعت کو پیش کرنے کی باری بعد میں آتی ہے۔اگر یہ پہلے خرچ نہ ہوں تو دوسرے خرچ ضائع ہو جایا کرتے ہیں۔چنانچہ خدا کے حضور جو تھے ہیں ان میں نیکی ہونا لازم ہے "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» (سورۃ آل عمران:93) تم نیکی کو پاہی نہیں سکتے ، ہرگز نہیں پاؤ گے جب تک، جن چیزوں سے محبت ہے، ان کو خدا کی راہ میں خرچ نہ کرو۔اب دیکھیں محبت کے تقاضے انسان کو اپنی ساری زندگی میں ہر طرف پھیلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ماں کو بیچے سے محبت ہے اس میں کوئی شک نہیں، مگر اللہ کی محبت غالب ہو تو بچے کو خدا والا بنانے پر اس کی زیادہ توجہ ہوگی۔اپنی طاقت کو پہلے اس بات پر خرچ کرے گی کہ میرا بچہ خدا والا بنے اور سکول والا بعد میں بنے گا خدا والا پہلے بنے گا۔جو جو خدا والا بچہ ہے وہ جہاں بھی جائے گا اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔ایک ایسی سوسائٹی میں جہاں ہر طرف شیطان کی آواز میں آپ کو بلا رہی ہیں اگر آپ کے بچوں کو نمازوں کی عادت نہیں ہے تو وہ بچے نہ آپ کے کام آسکیں گے، نہ اپنے نہ آئندہ نسلوں کے کام آسکیں گے۔کیونکہ انہوں نے لاز ما رفتہ رفتہ بھٹکتے بھٹکتے دور چلے جانا ہے۔پس نمازوں کے قیام میں یہ ساری باتیں اپنے پیش نظر رکھیں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ پہلے نمازوں کی عادت ڈالنا، پھر نمازوں کو کسی چیز سے بھرنا یہ دو باتیں ہیں جو ایک لامتناہی سفر ہے۔ایسا وقت آنا چاہیے اور جلد آنا چاہیے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ انگلی صدی سے پہلے پہلے آنا چاہیے کہ آپ میں سے ہر ایک کے خاندان میں ہر شخص نمازی ہو جائے اور یہ سفر وہ ہے جس کے متعلق میں نے شروع میں کہا تھا کہ نظام جماعت مستقلاً اس کو جاری نہیں کرسکتا۔کیونکہ نظام جماعت کا ایسے ملک میں جہاں آپ ہزار ہا میل پر پھیلے پڑے ہیں،