مشعل راہ جلد سوم — Page 53
53 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ایک لمحہ کی وہ قربانی اس کو کوئی دکھ نہیں دیتی۔لیکن وہ قربانیاں اصل آزمائش ہیں محبت کی ، جو لمبا عرصہ، مستقل، زندگی کے ساتھ چمٹ جاتی ہیں۔ہر ہر لمحہ انسان سے مطالبے کرتی ہیں اور تقاضے کرتی ہیں۔یہ واقفین زندگی کی قربانیاں ہیں۔یہ ان کی قربانیاں ہیں جو فیصلہ کر لیتے ہیں کہ آج کے بعد ہمارا کچھ نہیں۔جو کچھ بھی ہے وہ دین محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہو چکا ہے۔وہ اللہ کے حضور ہم پیش کر چکے ہیں۔ان قربانیوں کے تقاضے جو اصل محبت کی کسوٹی ہے وہ بہت لمبے ہیں۔اس وقت میں ان کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔وقت آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ، وقتاً فوقتاً میں آپ کے سامنے وہ تقاضے رکھتا رہوں گا۔میں آج صرف اتنا کہتا ہوں کہ محبت کوئی محض جذبات کا کھیل نہیں ہے۔یعنی مومن کے لئے محبت کوئی جذبات کا کھیل نہیں ہے۔مومن کے لئے محبت ایک لمبی زندگی ، قربانیوں کی زندگی کا تقاضا کر رہی ہے جو ہمیشہ، ہر حال میں، ہر ہر سانس میں، ہر ہرلمحہ اس بات کا ثبوت پیش کر رہی ہوں کہ ہم بچے عاشق ہیں۔یہ کیسے ثابت ہو، کس طرح ہمیں معلوم ہو کہ سچا عاشق کون ہوتا ہے؟ ان امور سے متعلق میں آئندہ انشاء اللہ کسی وقت آپ کے سامنے بیان کروں گا۔اس وقت ذہنی طور پر آپ کو میں تیار کرنا چاہتا ہوں۔احمدی نوجوان اس غلط فہمی کو دل سے نکال دے کہ احمدیت صرف وقتی جوش کی قربانیوں کا نام ہے۔احمدی نوجوان اس بات کا خیال ہمیشہ کے لئے دل سے نکال دے کہ احمدیت صرف نعروں کی طرف بلاتی ہے اور ہنگاموں کی طرف بلاتی ہے۔احمدیت ان دونوں میں سے کسی چیز کا نام نہیں۔احمدیت مستقل قربانیوں کا ایک لائحہ عمل ہے اور باشعور قربانیوں کا لائحہ عمل ہے جو زندگیوں کے اندر انقلاب چاہتی ہیں۔جب تک احمدی وہ انقلاب اپنی زندگی میں پیدا نہیں کرتا ، وہ آگے انقلاب پیدا کرنے کا اہل ہی نہیں۔یہ وہ راز ہے جس کو سمجھے بغیر آپ کامیاب (مربی) نہیں بن سکتے۔اس کے لئے آپ تیار ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے کہ عہد بیعت کے سارے تقاضے پورے کریں اور اللہ تعالیٰ مجھے توفیق عطا فرمائے کہ میرے نازک اور کمزور کندھوں پر جو ذمہ داری خود اس نے ڈالی وہ خود اس بوجھ کو اٹھا لے کیونکہ میں اپنے اندر کوئی طاقت نہیں پاتا۔اللہ تعالیٰ مجھے تو فیق عطا فرمائے کہ آپ کے حقوق ادا کروں اور آپ کے لئے دن رات دعائیں کروں۔آپ کو زندہ کرنے میں اپنی زندگی پیش کر دوں تا کہ آپ زندہ ہوں تو ( دین حق ) زندہ ہو۔( دین حق زندہ ہو تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہمیشہ کے لئے ساری دنیا میں زندہ رہے گا اور پھر کوئی اس نام کو منانہیں سکے گا۔،، (ماہنامہ خالد نومبر، دسمبر 1982 صفحہ 5 تا 15 )