مشعل راہ جلد سوم — Page 52
52 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کہ اے میرے دل ! بڑے ظلم ہوئے ہیں تجھ پر لیکن یہ بھی تو خیال کر کہ آخر میرے ہی محبوب محمد " کی محبت کے دعویدار ہیں یہ۔اسی محمد " کی محبت کا دم بھر رہے ہیں یہ۔اس لئے جو ظلم مجھ پر کرتے ہیں کر گزریں میں ان کو معاف کرتا چلا جاؤں گا۔ی تعلیم ہے احمدیت کی۔اس تعلیم پر ہم نے بہر حال قائم رہنا ہے۔اس محبت کے اعلان میں جو محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا اعلان ہے، ہمیں اس بات کی کوئی بھی پرواہ نہیں کہ ہم پر دنیا کیا ظلم توڑتی ہے اور کیا کر گزرتی ہے۔ہم وفادار رہیں گے اس محبت سے۔قائم رہیں گے اس محبت پر۔دائم اور ہمیشہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن سے چھٹے رہیں گے۔کیونکہ یہ وہ محبوب ہے جس کی محبت کے بعد پھر دنیا کی کوئی پرواہ باقی نہیں رہتی۔مستغنی ہو جاتا ہے انسان اس بات سے کہ دنیا کیا سلوک کر رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے اس محبت کے تقاضے پورے کرنے کی۔یہ تقاضے بہت وسیع ہیں۔یہ محض کوئی جذبات کا کھیل نہیں ہے۔جہاں تک قربانیوں کا تعلق ہے میں جانتا ہوں اور پہلے بھی بارہا تاریخ اس بات کو آزما چکی ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن سے ، دنیا کا کوئی جبر اور کوئی استبداد، احمدی کا ہاتھ الگ نہیں کر سکتا۔یہ اس قوت کے ساتھ محمد مصطفیٰ " کے قدموں پر پڑا ہوا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس ہاتھ کو جدا نہیں کر سکتی۔لیکن جہاں تک مستقل قربانیوں کا تعلق ہے، مثبت رنگ کی قربانیوں کا تعلق ہے وہ ایک بالکل الگ مضمون ہے۔محبت کے تقاضے وہاں بدل جاتے ہیں۔وہاں انسان کو روز بروز اپنی زندگی میں تبدیلیاں پیدا کرنی پڑتی ہیں۔وہ بہت مشکل مقام ہے۔اس اول مقام پر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمد یہ ہمیشہ سے قائم ہے اور اس دوسرے مقام پر بھی بڑی شان کے ساتھ قائم رہی ہے۔لیکن جہاں تک محبت کے دوسرے تقاضوں کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ کچھ کمزوریاں ظاہر ہونی شروع ہوگئی ہیں۔محبت کے یہ تقاضے نماز کی طرف آپ کو بلاتے ہیں۔محبت کے یہ تقاضے عبادت کا حق ادا کرنے کی طرف آپ کو بلاتے ہیں۔محبت کے یہ تقاضے اس رنگ میں دعوۃ الی اللہ کی طرف آپ کو بلاتے ہیں جس رنگ میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبلیغ فرمائی۔دن اور رات اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے دین پر، اس کے پیغام پر فدا کرنے کی طرف آپ کو بلاتے ہیں۔یہ ایسے تقاضے نہیں ہیں جو جذبات کے ایک ہنگامے میں انسان اپنی جان قربان کر دیا کرتا ہے۔اپنے جذبات سے اتنا مغلوب ہو جاتا ہے بسا اوقات کہ