مشعل راہ جلد سوم — Page 555
مشعل راه جلد سوم 555 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی اے دنیا سے کاٹے جانے والو! جن کو دنیا نے حقیر اور ذلیل کر کے چھوڑ دیا ہے۔یہ بھی تو سوچو تم کن سے جاملے ہو یہ وہ تو حید ہے جو زمانوں کو پالتی ہے اور قوموں کے تفرقوں کو مٹا دیا کرتی ہے۔نیک لوگوں کا نمونہ اپنائیں پس اس توحید پر قائم ہونا آپ کے لئے از بس ضروری ہے۔اس پہلو سے اپنے ماں باپ کا فخر سے ذکر کریں یعنی فخر ان معنوں میں کہ وہ بہت اچھے لوگ تھے۔مگر اپنی بڑائی کے معنوں میں نہیں۔ان معنوں میں کہ ہمیں دیکھو ہم بھی تو ان سے مل رہے ہیں۔ہم غیروں سے کاٹے جا رہے ہیں اور نیک لوگوں کی صفات کو اپنا رہے ہیں۔ان جیسے ہورہے ہیں۔اگر آپ یہ دعوی کر سکتے ہیں تو آپ تو حید کے علمبر دار ہیں۔اگر آپ نیکیوں سے سرک کر بدیوں کی طرف حرکت کر رہے ہیں تو پھر آپ ہر گز تو حید کے علمبردار نہیں ہیں۔آپ فسق و فجور کے علمبردار بن جائیں گے۔پس تو حید کو محض نعروں کے لئے نہ رکھیں۔تو حید کو غور سے دیکھتے دیکھتے ایک ایک پہلو پر نظر رکھتے ہوئے ، اس کی باریک راہوں کو اختیار کرتے ہوئے، اپنی ذات میں جاری کریں اور جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا۔ہر قسم کے جھوٹ سے تو بہ کر لیں۔یہ جتنی مثالیں میں دے رہا ہوں یہ جھوٹ ہی ہے۔آبا ؤ اجداد نے بڑے کام کئے۔اپنے ان بڑے کاموں کے متعلق سر بلندی دکھاتے ہوئے ان کے ذکر خیر کو اچھالا کہ ہمارے آباؤ اجداد یہ ہوا کرتے تھے یہ ہوا کرتے تھے۔جھوٹ یہ ہے کہ آپ ویسے نہیں ہیں اگر فخر تھا تو سچی بات جس پر فخر ہوا کرتا ہے انسان و یسا بننے کی کوشش کرتا ہے۔روزمرہ کی زندگی میں لوگ ایکٹریوں کی بھی نقل کرتے ہیں، ایکٹروں کی بھی نقل کرتے ہیں، کھلاڑیوں کی نقلیں کرتے ہیں اور کوئی چیز بھی جس کو وہ پسند کرتے ہیں اس سے روگردانی نہیں کیا کرتے۔ویسا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔تو آپ بھی ان جیسا بنے کی کوشش کریں۔یہ حق ہے۔یہ تو حید کا دوسرا نام ہے۔اپنے پہلوں اور بعد والوں میں کوئی تفریق نہ پیدا ہونے دیں، جو تو حید کے منافی ہو۔پس وہ مضمون جو دیکھنے میں آسان دکھائی دیتا تھا جب میں اس کی تفصیل بیان کرتا ہوں تو دیکھو کتنا مشکل اور مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جارہا ہے۔مگر ہم نے لازماًیہ کرنا ہے اسکے بغیر ہم دنیا میں جینے کا حق نہیں رکھتے۔ہمیں دنیا کو تو حید کی طرف بلانے کا کوئی بنیادی طور پر استحقاق ہی نہیں پیدا ہوتا اور بلا نا ہم نے ضرور ہے۔یہ وہ راہ ہے جسے ہم اختیار کر چکے ہیں۔خواہ اس راہ پر مارے جائیں ، اب ہم نے پیچھے نہیں ہٹنا اور اس پہلو سے صدی کے دیکھو کتنے تھوڑے سال باقی ہیں۔اس صدی کو اگلی صدی سے اس طرح ملانا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صدی کا آغاز اس