مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 482 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 482

482 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم دیکھا کہ جس کی طرف میں انگلی اٹھا کر ان کو متوجہ کر سکتا۔اس پس منظر میں مجھے یقین ہے کہ اس سارے انتظام و انصرام میں دعائیں ضرور کارفرما رہی ہوں گی کیونکہ میرا عمر بھر کا تجر بہ یہی ہے کہ ہر وہ انتظام ناکام اور نا مرا در رہتا ہے جس سے پہلے اور جس کے دوران اللہ تعالیٰ سے دعائیں نہ مانگی گئی ہوں۔دعائیں بجز اور انکساری کو چاہتی ہیں اور جہاں تک میرا تجربہ اور علم ہے آپ کے صدر مجلس بھی اور مجلس عاملہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور اسی طرح دیگر مجالس عاملہ بھی، بجز اور انکساری اور دعاؤں کے ساتھ خدمت دین میں مصروف ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے کاموں میں بھی بہت برکت ڈالی ہے اور یہ اجتماع خدا کے فضل کے ساتھ ایک مثالی اجتماع بنا ہے۔جہاں تک انتظامات کا تعلق ہے وہ تو انشاء اللہ بہتر سے بہتر ہوتے رہیں گے کیونکہ کمال کا کوئی ایسا تصور دنیا میں نہیں ہے کہ جو ہر پہلو سے کسی چیز کو اس طرح کامل کر کے دکھائے کہ اس کے بعد اگلی منزل دکھائی نہ دے۔یہ کمال صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے، اُس کے سوا اور کسی کو نصیب نہیں۔اس لئے جب میں یہ کہتا ہوں کہ انتظامات ہر پہلو سے عمدہ اور اچھے تھے تو یہ ایک نسبتی تعریف ہے۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہ لیجئے کہ ترقی کی راہیں بند ہو گئیں ، جو سفر آپ نے کرنے تھے کر لئے اور اب اس سے آگے کی طرف کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔جب میں نے جائزہ لیا تو زیادہ تر میرے ذہن میں از خود ایک موازنہ گذشتہ سال کے ساتھ ہوتا چلا جار ہا تھا اور اس پہلو سے مجھے اطمینان ہوتا چلا گیا کہ پہلے کی نسبت خدا کے فضل سے ہر انتظام بہتر ہے لیکن آئندہ کسی مقام پر رک جانا مومن کی شان نہیں بلکہ بہتر سے بہتر کرنے کی ہمیشہ گنجائش رہے گی اور میں یہ امید رکھتا ہوں کہ آپ کا بھی اور دیگر ذیلی تنظیموں کا بھی اور جماعت کا بھی بالعموم قدم ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا رہے گا۔اس اجتماع میں عددی رونق بھی بہت ہے اور اس پہلو سے بہت سے دوستوں نے مجھے مبارکباد دی کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ پنڈال جو کبھی ساری جرمنی کی جماعت کے جلسے پر بھی پوری طرح بھر انہیں کرتا تھا اب خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں ہی یہ پنڈال خدا کے فضل سے پوری طرح بھر چکا ہے اور بہت رونق ہے۔ظاہری کے ساتھ اندرونی برکت کا ہونا بھی ضروری ہے اس رونق پر مجھے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا دعائیہ شعر یاد آیا کہ