مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 483 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 483

مشعل راه جلد سوم اک سے ہزار ہوویں 483 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی با برگ و بار ہوویں اور اس شعر کے یاد آنے سے ایک اور مضمون مجھے سجھائی دیا اور وہ یہ تھا کہ عام طور پر دنیا عددی اکثریت پر نازاں ہو جاتی ہے اور مطمئن ہو جاتی ہے لیکن ایک عارف باللہ میں اور ایک عام انسان کے معیار میں دیکھیں کتنا فرق ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ کہ کر خاموش نہیں ہو گئے کہ اک سے ہزار ہوویں بلکہ معا اس سے زیادہ طاقت اور قوت کے ساتھ یہ التجا کی مولی کے یار ہوویں با برگ و بارہوویں حق پر شار ہوویں پس اُن اک سے ہزار ہونے والوں کا کیا فائدہ جو مولی کے یار ہونے کی بجائے شیطان کے یار بنتے چلے جائیں اور حق پر نثار ہونے کی بجائے باطل پر شار ہونے لگیں۔پس یہ دوسرا پہلو جو ہے اس کو آپ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔عددی اکثریت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔اس کے کوئی معنے نہیں ہیں۔بسا اوقات خبیث اور باطل کو حق اور پاکیزگی کے مقابل پر اکثریت حاصل ہوتی ہے۔اس لئے اکثریت وہ قدر کے لائق ہے اور وہی اکثریت ناز کے لائق ہے جس اکثریت کے ساتھ تقوی کی زینت موجود ہو۔اگر خدا کا خوف ،خدا کی محبت دل میں نہ ہو اور بنی نوع انسان کے لئے سچا پیار انسان کے دل میں نہ ہو تو ایسی عددی اکثریت رحمت کی بجائے دنیا کے لئے لعنت بن جایا کرتی ہے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ نے جرمنی کی جماعت کو برکت دی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے جرمنی کی ذیلی مجالس کو برکت کی ہے یعنی عددی برکت دی ہے وہاں ہم پر بہت ہی زیادہ پہلے سے بڑھ کر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کا جائزہ لیں ، اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ اس ظاہری برکت کے ساتھ کیا ہمیں باطنی اور اندرونی برکت بھی نصیب ہو رہی ہے یا نہیں۔کیا اس اضافہ کے ساتھ ، جونفوس کا اضافہ ہے کیا ہمارے ایمان میں بھی اضافہ ہورہا ہے کہ نہیں، ہمارے خلوص میں بھی اضافہ ہورہا ہے کہ نہیں اور ہمارے نیک اعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کہ نہیں۔اگر یہ سب بڑھ رہے ہیں اور نشو ونما پا رہے ہیں تو پھر یہ عددی اضافہ اور تعداد کا بڑھتے چلے جانا اللہ تعالیٰ کا یقینا ایک فضل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پر عظمت و پُر حکمت دُعا انہی معنوں میں حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تمنا تھی کہ قیامت کے دن میں یہ دیکھوں