مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 445 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 445

445 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اس کے سوا اور کوئی نسخہ نہیں۔ادنیٰ سے اعلیٰ جب انسان بنتا ہے تو اس کے اندر غیر معمولی طاقتیں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔وہ اپنے وجود میں ایک روشنی محسوس کرتا ہے۔اس نور کے نتیجے میں اس کی بصارت تیز ہوتی ہے۔وہ باتوں کی کنہ تک پہنچنا شروع ہو جاتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون پر بار ہا قلم اٹھایا ہے اور آپ فرماتے ہیں کہ عقل حقیقت میں تقویٰ کے نور سے ملتی ہے اور جب تک تقویٰ کا نور دل میں داخل نہ ہو انسان کو عقل نصیب نہیں ہو سکتی۔اہل بصیرت وہی ہیں جو خدا سے محبت رکھتے ہیں اور خدا کا تقویٰ ان کے دل میں اور ان کی عادات میں جاری ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا کے فرشتے ان کے لئے روشنیاں لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان کو روشنی عطا کرتے چلے جاتے ہیں۔بڑی تیز آنکھ سے جود نیا کو نصیب نہیں ہوتی وہ دنیا کو جانتے اور پہچانتے ہیں اور ان کو ایک غیر معمولی بصیرت عطا ہوتی ہے۔پس آپ نے اولوالالباب بننا ہے۔وہ اولوالالباب بننا ہے جن کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے۔جو خدا سے تعلق قائم کئے بغیر کچھ بن ہی نہیں سکتے۔پس دنیا کی قومیں دنیا کی فراست میں اور دنیا کی عقلوں میں اگر چہ آپ سے بہت آگے نکل چکی ہیں۔مگر ان کو خدا کی طرف لانے کیلئے اس عقل کی ضرورت ہے جو خدا سے تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔اور وہ عقل کل ہے۔اس بات پر آپ جتنا بھی غور کریں اتناہی زیادہ آپ اس بات پر مطمئن ہوتے چلے جائیں گے کہ کامل عقل خدا سے تعلق کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتی۔پس اس دور کو جو عقلی راہنمائی کی ضرورت ہے وہ بھی تعلق باللہ ہی سے ملے گی اور جو لوگ بھی خدا کی طرف بڑھتے ہیں وہ محسوس کرتے ہیں اور ان کے ذاتی تجربے میں یہ بات آتی ہے اور بارہا آتی ہے کہ اس تعلق میں آگے بڑھنے کے نتیجے میں ان کی بدیاں جھڑنی شروع ہو جاتی ہیں، ان کی ٹیڑھی سوچیں ختم ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔سیدھا رستہ عطا ہوتا ہے اور درحقیقت وہی صراط نہ ہر شخص کی صراط مستقیم اس کے تقویٰ سے تعلق رکھتی ہے۔ظاہری طور پر تو آپ ایک ہی صراط مستقیم سمجھتے ہیں جس کا نام ( دین حق ہے۔یہ درست ہے کہ (دین حق) صراط مستقیم ہے۔مگر یہ کہنا کہ ہر ( مومن ) جو صراط مستقیم ( دین حق) پر چل رہا ہے اس کو ایک ہی جیسی صراط مستقیم نصیب ہے یہ درست نہیں۔اگر ایسا ہوتا تو سورہ فاتحہ آپ کو ہر نماز میں، ہر رکعت یہ دعا نہ سکھاتی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اے ہمارے رب ہمیں سیدھے رستے کی ہدایت دے۔جو رستے پر چل رہا ہو وہ ہدایت کیوں مانگے۔جو منزل مقصود تک پہنچ جائے وہ اس منزل کا رستہ تو نہیں پوچھا کرتا۔پس وہ کونسی صراط مستقیم ہے جس کی دعا قرآن کریم نے آپ کو