مشعل راہ جلد سوم — Page 444
مشعل راه جلد سوم 444 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تہذیب اور تمدن اور اپنے زندگی کے مشاغل کو جہاں جائیں پھیلاتی چلی جاتی ہیں۔امریکہ کو آج کل عروج حاصل ہے اور امریکہ میں جو طر ز زندگی ہے اس کا اثر جہاں جہاں امریکہ کا نفوذ ہو رہا ہے وہاں نمایاں ہوتا چلا جا رہا ہے۔جرمنی میں آپ دیکھیں گے کہ باوجود اس کے کہ جرمن قوم ایک آزاد قوم ہے اور اپنی ذات میں مستقل صفات رکھنے والی قوم ہے لیکن یہاں بھی امریکن طرز زندگی کا بہت گہرا اثر پڑا ہے اور دنیا کے دیگر ممالک میں بلکہ روس اور چین میں بھی یہ نفوذ ہوا ہے۔جاپان میں بڑی کثرت کے ساتھ امریکی طرز زندگی کا نفوذ ہوا ہے۔لیکن اس طرز زندگی کے ساتھ بہت سی قابل ملامت چیزیں بھی داخل ہو جاتی ہیں۔ایسی گندی عادات بھی داخل ہو جاتی ہیں جو قوموں کو بچانے کی بجائے ان کو ہلاک کر دیتی ہیں۔پس آپ کو قوموں کے منجھی کے طور پر دنیا میں لایا گیا ہے۔قوموں کے نجات دہندہ ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔اس لئے جب تک آپ الہی صفات سے اپنے وجود کو مرقع نہیں کرتے ، جب تک آپ صفات الہی کو اپنے اندر داخل کر کے ایک نئی خلقت اختیار نہیں کرتے ، اس وقت تک نہ آپ کو دنیا میں تبدیلی کا حق ہے نہ اس کا صحیح فائدہ ہے۔پس جرمن جماعت کے نو جوانوں کو بالخصوص بلکہ آپ کی وساطت سے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے دنیا کے تمام نو جوانوں کو میں خصوصیت سے یہ پیغام دیتا ہوں کہ اپنے اندراس عمر میں الہی رنگ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔بڑھاپے میں انسان جن بدیوں سے باز آجاتا ہے وہ بے اختیاری کی تو بہ ہے۔بڑھاپے میں بہت سے جوش از خود ٹھنڈے ہو جاتے ہیں، بڑھاپے میں بہت سی تمنائیں از خود مدھم پڑ جاتی ہیں اور انسان دن بدن اپنی نفسانی تمناؤں اور خواہشوں کی غلامی سے ان خواہشوں اور تمناؤں کی کمزوری کی وجہ سے باہر نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔پس ایک بوڑھا آدمی جس کا دل ٹھنڈا پڑا چکا ہو، جس کے خون میں گرمی باقی نہ رہی ہو، جس کو بعض بدیاں کرنے کی طاقت ہی نہ ملے اس کی تو بہ تو کوئی تو بہ نہیں ہے۔اصل تو بہ وہ ہے جب آپ کا خون جوش مار رہا ہو، جب آپ کے جذبات اپنی شدت میں ہوں اور آپ کو زیر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں، اس وقت اگر ایک شہسوار کی طرح ان پر قابو پائیں اور ان کو اپنا غلام بنا ئیں اور خدا کی خاطر ان صفات کا غلام بنے کی بجائے ان کے بدلے الہی صفات کو اپنے اندر جاری کریں اور اپنی تمناؤں کو صفات الہی کا غلام بنا دیں۔یہ وہ حقیقی جوانی ہے جو مومن کی جوانی ہے۔یہ وہ جوانی ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوانی تھی۔پس اس جوانی کے ذریعے آپ نے دنیا کو پچھاڑنا ہے۔اس کے سوا اور کوئی جوانی حقیقت نہیں رکھتی۔پس احمدی نو جوانوں کو دنیا میں عظیم الشان کام سرانجام دینے ہیں اور وہ کام ادا کرنے کے لئے یہی ایک نسخہ ہے جو میں نے آپ کو بتایا۔