مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 360

360 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم گے کہ وہ جمعہ کے دن کی اہمیت سے غافل ہو جائیں۔فرمایا یا تو وہ جمعہ کو ترک کرنے سے باز رہیں یا پھر ضرور خدا تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا۔اور پھر وہ غافل ہو جائیں گے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور موقع پر فرمایا :۔اِنَّ اللهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْجُمُعَةَ فِي مَقَامِي هَذَا فِى يَوْمِي هَذَا فِي شَهْرِى هَذَا مِنْ عَامِيٌّ هَذَا إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ فَمَنْ تَرَكَهَا فِي حَيَاتِي أَوْ بَعْدِي وَلَه إِمَامٌ عَادِلٌ أَوْ جَائِرٌ اسْتِخْفَافاً بِهَا اَوْ جَعُوداً لَّهَا فَلَا جَمَعَ اللهُ لَه شَمْلَهُ، وَلَا بَارَكَ لَه فِي أَمْرِهِ أَلَا وَلَا صَلوةَ لَهُ، وَلَا زَكوة لَهُ، وَلَا حَجَّ لَهِ، وَلَا صَوْمَ لَهُ، وَلَا بِرَّلَهِ، حَتَّى يَتُوبَ فَمَنْ تَابَ، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ (سنن ابن ماجه كتاب الصلواة باب في فرض الجمعة) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ روایت بیان کی گئی ہے۔آپ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔خدا تعالیٰ نے تم پر جمعہ کا دن فرض فرما دیا ہے فی مقا می هذا میرے اس مقام پر فى يومى هذا آج اس دن فى شهرى هذا آج اس مہینے میں، من عامی هذا آج اس سال میں یعنی اہمیت کی خاطر اس کو بار بار دہرایا ہے کہ کیا واقعہ ہوا ہے۔آج اس دن ،اس خاص شہر میں اس خاص مہینے میں، اس سال میں جمعہ فرض فرما دیا گیا إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ آج کا واقعہ ہے لیکن قیامت تک کے لئے فرض ہو گیا ہے۔فَمَنْ تَرَكَهَا فِي حَيَاتِی اَوْ بَعْدِی پس جس نے بھی اسے چھوڑا خواہ میری زندگی میں چھوڑے یا میری وفات کے بعد چھوڑے وَلَهُ إِمَامٌ عَادِلٌ او جَائِرٌ اور ا سے امام میسر ہو خواہ وہ امام نیک ہو انصاف پسند ہو یا گناہگار اور بے راہ ہو اس سے بحث ہی کوئی نہیں۔جس طرح نُودِی میں مضمون تھا اس کو ایک اور رنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح فرمایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں اس سے بحث نہیں کہ کون امامت کرنے والا تمہیں میسر ہے۔یہ عذر بھی قبول نہیں ہوا کہ تم سمجھتے تھے کہ گندا امام تھا اس لئے ہم نے جمعہ نہیں پڑھا فر مایا کسی قسم کا امام ہو میرے وصال کے بعد ہو، تمہیں میسر آئے سہی جمعہ کے لئے ، پھر بھی تم جمعہ نہ پڑھو استِ خُفَافًا بِهَا أَوْ جَعُوْداً لَّهَا خواہ جمعہ کو معمولی سمجھتے ہوئے خواہ اس کی اہمیت کا کھلم کھلا انکار کرتے ہوئے فَلَا جَمَعَ اللَّهُ شَمْلَهُ، میری دعا یہ ہے کہ خدا اس کے بکھرے ہوئے کاموں کو کبھی مجتمع نہ کرے۔یہ عظیم الشان کلام ہے جو اپنی فصاحت و بلاغت کے زور پر ثابت کر رہا ہے کہ خود حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کا کلام ہے۔جمعہ کا مطلب ہے جمع کرنا اور مسلمانوں کا، نیک لوگوں کا جمع ہونا اس جمعہ میں بیان ہوا ہے، مختلف زمانوں کا جمع ہونا اس جمعہ میں بیان