مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 352 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 352

مشعل راه جلد سوم 352 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نظام کو از سر نو مستحکم کرنا اور ہر احمدی کو اس بات کا عادی بنا دینا کہ وہ جمعہ کی نماز پڑھے ، یہ اس دور کی اور اس سال کی خصوصی مہم بن جانی چاہیے۔بچوں کی تعلیم و تربیت کے نقطہ نظر سے جمعۃ المبارک کی اہمیت امریکہ کے حالات کے مطابق میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہاں کے احمدی دوست ایسا نہیں کریں گے تو ان کی اولادوں کی حفاظت کی کوئی ذمہ دار نہیں کی جاسکتی۔یہاں برطانیہ کے متعلق بھی میں جانتا ہوں کہ اور یورپ میں بھی جو احمدی بستے ہیں۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کی اولادوں کے ایمان اور اعمال صالحہ کی کوئی ضمانت نہیں ہوسکتی۔امر واقعہ یہ ہے کہ میں سوچ رہا تھا کہ مجھ سے اس بارہ میں کوتاہی ہوئی اور دیر ہوگئی ہے مجھے بہت پہلے اس مضمون کی طرف توجہ دلانی چاہیے تھی۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بعض دفعہ تربیت کے مسائل پر غور کرتے کرتے ایک خیال بڑی قوت کے ساتھ دل میں ابھر آتا ہے اور بعض دفعہ اس کی طرف خیال بھی نہیں جاتا۔اس لئے بہر حال غلطی تو ہے لیکن اب جب کہ میرے دل میں یہ خیال قائم ہوا ہے اور آج جب کہ نیا سال جمعہ کے دن سے شروع ہو رہا ہے اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس کے متعلق پورے زور کے ساتھ نصیحت کروں اور جماعت کو اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلاؤں کہ جماعت نے اگر اپنے بچوں کی حفاظت کرنی ہے ان کو دین دار بنانا ہے اور ان کو (مؤمن ) رکھنا ہے تو ان پر جمعہ کی اہمیت واضح کئے بغیر ان کو جمعہ کی نماز کا عادی بنائے بغیر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے یہ کیسا درد ناک منظر ہوتا ہے کہ عیسائی بچے تو ایک دن تیار ہو رہے ہوتے ہیں چرچوں میں جانے کے لئے عبادت کرنے کے لئے اور (مومن) بچوں کو پتہ ہی کچھ نہیں ہوتا ان کی مائیں ان کو سکول کے لئے تیار کر رہی ہوتی ہیں اور ماؤں کو پتہ ہی نہیں کہ ہمارے ہاں عبادت کا بھی کوئی خاص دن مقرر ہے۔ایسی نسل جب بڑی ہوگی اس کے متعلق یہ توقع رکھنا کہ وہ اسلام پر کار بند ہوگی یا ان کے اندر دین کی اہمیت باقی رہے گی یہ ایک دیوانے کا خواب ہے ، اس سے زیادہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔یا درکھیں بچوں پر جمعہ کی نماز کا بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔جمعہ کا یہ نظام کچھ ایسا ہے کہ جمعہ سے پہلے کا حصہ اس میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔چنانچہ وہ لوگ جو مسلمان ملکوں میں جوان ہوتے ہیں یعنی وہیں بچپن گزار کر بڑے ہوتے ہیں ان کو ہمیشہ یہ بات یا درہتی ہے کہ جمعہ کے دن خاص طور پر ان کو نہلایا دھلایا جاتا تھا۔نئے کپڑے پہنائے جاتے تھے۔اگر وہ بھاگتے دوڑتے تھے یا کھیلتے تھے تو ان کو پکڑ کر لایا جاتا تھا۔