مشعل راہ جلد سوم — Page 330
330 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم بنانے کے لئے مقرر نہیں کیا گیا۔اس لئے اس میں وہ صلاحیتیں ہی موجود نہیں ہیں جو قاضی میں ہونی چاہئیں پھر اسی پر اکتفاء نہیں کرتی قضاء کے دوران بہت سے معاملات ایسے ہیں جن میں فتوے چاہئیں اور ایک متقی قاضی خدا کا خوف رکھنے والا جب کسی معاملے میں نہیں جانتا کہ قرآن یا سنت کا اس بارہ میں واضح حکم کیا ہے تو وہ اس معاملہ کو مجلس افتاء یا دار الافتاء کی طرف بھیجتا ہے اور جانتا ہے کہ یہ فتویٰ دینا قاضی کا کام نہیں ہے۔قاضی کا کام صرف اتنا ہے کہ جو فتاویٰ موجود ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے وہ اپنے فیصلے صادر کرے۔ایک مجلس عاملہ اٹھتی ہے اپنے مقام کو ایک جگہ بھی چھوڑتی ہے اور دوسری جگہ بھی چھوڑتی ہے اور جہاں افتاء کی ضرورت پیش آتی ہے وہاں خود ہی مفتی بن جاتی ہے اور فیصلے صادر کر دیتی ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں فحشاء پھیلتی ہیں۔جو وہ نقائص وہ بجھتی ہے، چونکہ ان نقائص کی پورح طرح چھان بین بھی نہیں ہوسکی ، قضا کا منشاء ہے اور ذاتی حقوق جو خاندانوں کے ہیں ان کے بعض معاملات میں ان کی پردہ پوشی کی جائے ان کے معاملات کو منظر پر نہ لایا جائے اس بنیادی اصول سے بھی وہ روگردانی کرتے ہوئے ایک اور معاملے میں ایک اور طرف بھی رخ کرتی ہے۔جہاں اس کو رخ کرنے کا کوئی حق نہیں ہوتا اور سارے معاشرے میں بدظنی، بے چینی اور فحشاء پھیلا دیتی ہے۔ایسے کاموں کے لئے مجالس عاملہ کو مقرر ہی نہیں کیا گیا۔اگر وہ مجالس اس طرح کریں گی اور ان طریقوں پر جن کی حق تلفی کی جائے جن کوٹکراؤ کی دعوت دی جائے گی وہ آگے سے ٹکراؤ کریں گے تو سارا نظام جماعت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جائے گا اور اگر نہیں کریں گے تب بھی ی مجلس عاملہ ظالم رہے گی جس نے ناجائز کسی فریق کے اوپر ظلم کیا۔اس کو کوئی حق نہیں تھا۔اس قسم کے بعض معاملات میرے علم میں آئے۔میں نے فوری طور پر مجالس عاملہ کو معطل کیا لیکن مجھے اس موقع پر بیان کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ جو کمیشن مقرر کیا گیا وہ بظاہر ایسے لوگوں پر مشتمل تھا جو بڑی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں لیکن اس کمیشن نے ان بنیادی باتوں کو نوٹ کئے بغیر کہ وہاں کیا ہو گیا ہے کیا قیامت برپا ہوئی ہے، قرآن کریم کے بنیادی اصول کو چھوڑ کر خود قاضی بننے کی کوشش کی ہے اور یہ فیصلہ کرنے کی کوشش شروع کر دی کہ کونسا فریق ٹھیک تھا اور کونسا غلط تھا چنا نچہ مجھے اپنے فیصلہ میں پھر یہ بھی لکھنا پڑا کہ آئندہ یہ جوکمیشن کے ممبران ہیں ان کو کم از کم ایک سال تک کے لئے کوئی تحقیقی کام نہ دیا جائے کیونکہ یہ بنیادی طور پر اہلیت ہی نہیں رکھتے۔مجھے خیال آیا کہ اگر ایسے ممبران جو بڑے مخلص ہیں تجربہ کار ہیں نظام جماعت میں ان کو بھی بعض باتوں کے بنیادی فرق معلوم نہیں ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ساری جماعت کو مخاطب کرتے یہ معاملات ان کے سامنے لائے جائیں تاکہ قرآن کریم کی اس آیت کو نظر انداز کرتے