مشعل راہ جلد سوم — Page 326
مشعل راه جلد سوم 326 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی قرار دیا جا سکتا ہے۔چنانچہ تفاوت کے لفظ میں مزید حسن قابل غور ہے کہ ایک فوت کا دوسرے فوت سے مقابلہ۔فات اس چیز پر اطلاق پاتا ہے جو اپنی جگہ سے ہٹ جائے وہ جب کسی ایسی چیز سے ٹکراتی ہے جو خودا اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی ہو تو اس کو تفاوت کہیں گے اور اگر کوئی چیز ہٹ کر کسی ایسی چیز سے ٹکراتی ہے جو اپنے مقام سے علی نہیں ہے اپنے دائرے میں ہی موجود رہتی ہے تو وہ ٹکرانے والی چیز نا کام اور نامراد ہو جائے گی۔اس کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اس کو پھر تفاوت نہیں کہیں گے اس کو ایک ایسا حادثہ کہتے ہیں۔جس طرح کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ مضمون باندھا گیا ہے کہ بعض اہل دنیا جب سماء الدنیا میں دخل دینے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے لئے تفاوت کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔بلکہ فرمایا ایک ناجائز کوشش ہے جس کا ان کو حق نہیں ہے۔اس کے نتیجہ میں شہاب ثاقب ان کی پیروی کرتے ہیں اور آسمان کی طرف سے ان پر شعلے نازل کئے جاتے ہیں جو ان کو ہلاک کر دیتے ہیں۔لیکن آسمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔پس ہر چیز جو اپنے مدار پر قائم ہے وہ کسی دوسری چیز سے ٹکر انہیں سکتی جو اپنے مدار پر قائم ہو۔جو چیز اپنے مدار پر قائم ہے اس سے اگر کوئی چیز ٹکراتی ہے اور مدار پر قائم رہنے والی چیز اپنے منصب سے نہیں ہٹتی تو قرآن کریم کے فلسفے کے مطابق اس کو کوئی نقصان نہیں ہے ٹکرانے والی چیز کو نقصان ہوگا اور اس کے مقابل پر دوسری چیز بھی اپنے منصب کو چھوڑ دیتی ہے اور مقام سے ہٹ جاتی ہے تو پھر جو کراؤ ہے اس کا نام قرآنی اصطلاح میں تفاوت ہے۔چونکہ فوت ہونے کا مطلب بھی موت ہے اس لئے جب منصب سے ہٹ گئے تو موت خود بخود واقع ہوگئی۔گویا دوموتوں کے درمیان تصادم ہے اور جب دو موتیں متصادم ہوں گی تو نتیجہ فتور ہی پیدا ہو گا اس سے زیادہ اور کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔عجیب حیرت انگیز کلام ہے جس کو باریک سے باریک نظر سے آپ دیکھیں اور اس میں تفاوت اور فتور تلاش کرنے کی کوشش کریں تو لازماً آپ کی نظر تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی اور قرآن کریم کی کائنات میں بھی آپ کو کوئی تفاوت اور کوئی فتور دکھائی نہیں دے گا۔دنیاوی نظاموں کی حفاظت کا راز اس فلسفے میں ( جو فلسفہ وجود پایا جاتا ہے ) تمام دنیا کے نظام یا نظاموں کی حفاظت کا راز بیان فرما دیا گیا ہے۔خواہ معاشرتی نظام ہو۔خواہ اقتصادی نظام ہو۔خواہ مذہبی نظام ہو۔خواہ سیاسی نظام ہو خواہ کسی نوع کا بھی نظام ہو ، اس میں اگر منتظمین یہ نگرانی کریں کہ تفاوت نہیں ہونے دیں گے اور اس نظام کے کل پرزے اس بات پر قائم ہو جائیں کہ وہ اپنے مدار سے کبھی نہیں ہٹیں گے تو پھر کوئی فتور دکھائی نہیں دے گا ورنہ