مشعل راہ جلد سوم — Page 325
مشعل راه جلد سوم 325 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مضمون یہ باندھا گیا اور یہ بہت ہی عظیم الشان مضمون ہے کہ ساری کائنات کا فلسفہ حیات یا فلسفہ وجود یہ ہے کہ تم موت اور زندگی کو باہم متقابل دیکھتے ہو اور اس مقابلے کے نتیجہ میں ہم تمہیں آزماتے ہیں یعنی ہر وجود کو آزماتے ہیں کہ وہ کیا اہلیت رکھتا ہے۔دوسری طرف فرمایا گیا کہ تم کوئی مقابلہ نہیں دیکھو گے۔پس یہ جو مقابلہ نہیں دیکھو گے کا لفظ ہے اس پر غور کی ضرورت ہے۔تفاوت کا اصل معنی کیا ہے کیونکہ جس جگہ یہ دعویٰ کیا گیا کہ کوئی تفاوت نہیں دیکھو گے وہاں تفاوت ہو ہی نہیں سکتا ان دونوں کو ایک دوسرے کے سامنے رکھ دیا گیا۔جس طرح موت کو زندگی کے مقابل رکھ دیا گیا اسی طرح یہ دو اعلان بظاہر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔تفاوت کا مضمون آپ سمجھ جائیں گے تو یہ سارا مسئلہ حل ہو جائے گا کہ ان میں جو یہ رکھا ہی اس لئے گیا ہے تاکہ زندگی اور موت کے جدوجہد کے فلسفے کی حقیقت کو آپ سمجھ سکیں۔مقابلہ تفاوت نہیں ہے۔اس لئے اگر لغات میں کوئی سرسری طرح پر معنی مقابلہ کے دکھائی دیں گے تو وہ اس پر پوری طرح صادق نہیں آتے۔تقابل باب مفاعلہ سے ہے اور تفاوت بھی باب مفاعلہ ہے اور اس کا مادہ فوت ہے۔فوت ہونا اکثر جانتے ہیں موت کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔فات کا جو اصل عربی معنی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی چیز ہاتھ سے کھوئی جائے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اپنے مقام سے ہٹ جائے ، اپنے منصب سے ہٹ جائے۔پس فات کے لفظ کے اندر اس مسئلہ کا حل ہے وہ مقابلہ جس کا تفاوت میں ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ فلسفہ حیات سے ہٹ کر مقابلہ۔اپنے منصب سے ہٹ کر مقابلہ۔جن چیزوں کی خاطر کسی چیز کو پیدا کیا گیا ہے اگر اس اصول کو چھوڑ کر اپنی راہ سے ہٹ کر کسی اور کی راہ میں کوئی چیز دخل دیتی ہے تو وہ مقابلہ ہوتا ہے اس کے اوپر لفظ تفاوت صادق آتا ہے۔پس تفاوت کا معنی خالی مقابلہ کرنا بالکل غلط ہے۔تفاوت کا معنی ہے وہ مقابلہ جو بے محل ہو ، جس چیز کی خاطر کسی چیز کو پیدا کیا گیا ہے اس سے ہٹ کر جب وہ چیز کسی دوسری چیز سے ٹکراتی ہے تو اس کو تفاوت کہتے ہیں۔ان معنوں میں آپ مشین کے کل پرزوں پر غور کریں جب بھی کوئی کل پرزہ اپنے دائرہ سے ہٹ کر کسی دوسرے دائرے میں دخل اندازی شروع کرتا ہے وہیں فتور پیدا ہو جاتا ہے۔تو فرما یافتور یعنی فساد کی جڑا اپنے اپنے منصب سے ہٹ کر کسی دوسرے کے منصب میں دخل اندازی ہے۔چونکہ خدا کی ساری کائنات میں کہیں کوئی فتور نہیں دیکھو گے کہیں کوئی تفاوت نہیں دیکھو گے اس لئے تمہیں کہیں فتور بھی نظر نہیں آئے گا۔فتور حادثاتی موت کو کہتے ہیں کہ یعنی اگر ہم کائنات کی اصطلاح میں بات کریں تو اسے حادثاتی موت