مشعل راہ جلد سوم — Page 300
300 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم الگ الگ ہیں اور معین کی گئی ہیں اس لئے جہاں تک اس ضرورت کا تعلق ہے جو ہمارے اس مخلص دوست کو محسوس ہوئی اس سے مجھے ایک ذرہ بھر اختلاف نہیں ہے ہاں جو طر ز اصلاح ان کے ذہن میں ابھری ہے اس سے مجھے اختلاف ہے جس کے بارہ میں دلائل میں نے بیان کئے ہیں کہ مجھے اس سے کیوں اختلاف ہے لیکن اس کے ساتھ میں والدین کو بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ان پر تربیت اولاد کی بہت بڑی ذمہ داری ہے خصوصاً ایسے علاقوں میں بسنے والے والدین پر یہ ذمہ داری اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے جیسا کہ یہ علاقہ ہے جس میں ہم آج کل بس رہے ہیں اور زندگی کے دن گزار رہے ہیں یا یورپ کے بعض دوسرے علاقے ہیں مشرق بعید کی بعض ریاستیں ہیں یا ہندوستان کے بعض علاقے ہیں ان سب علاقوں میں (دینی) قدریں غیر معمولی طور پر غالب ہیں۔سکول جانے کی بچے کی جو عمر ہے وہ سات سال سے پہلے شروع ہو جاتی ہے یہ بچے کی عمر کا نہایت ہی حساس دور ہوتا ہے یعنی چار ساڑھے چار سال سے سات سال تک کا زمانہ خصوصیت کے ساتھ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے کیونکہ ان علاقوں میں جو بچے نگے بچوں کو کھیلتے دیکھتے ہیں نگی لڑکیوں کو نہاتے دیکھتے ہیں اور اسی قسم کی اور بہت سی حرکتیں مثلاً ناچ گانے وغیرہ دیکھتے ہیں تو آپ یہ نہ سمجھیں کہ وہ بچے ہیں، ان چیزوں کے ان کے اوپر بہت ہی گہرے اثرات مرتب ہورہے ہوتے ہیں۔چنانچہ بعض دفعہ اس رنگ میں احساسات ان کے ذہنوں پر نقش و نگار بنارہے ہوتے ہیں کہ بعد میں آپ ان کو کھر چنے کی کوشش کریں تو زندگی گھر چی جاسکتی ہے مگر وہ نقش ونگار نہیں گھر چے جاسکتے ان کے نفسیاتی وجود کا ایک مستقل حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔جس طرح کسی سانچے میں کوئی چیز پگھلی ہوئی ڈال دی جائے وہ جم جائے گی تو پھر وہ توڑی جاسکتی ہے نئی شکل میں ڈھالی نہیں جاسکتی اس لئے بچوں کی عمر کا یہ نہایت ہی اہم دور ہے۔اس دور میں ماں باپ کو اس طرح توجہ کرنی چاہیے کہ وہ اپنے بداثرات کے مقابل پر بالا رادہ نیک اثرات پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اور اس میں ان کے لئے بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر ان کو خود عمل کرنا پڑے گا۔وہ اپنی زندگی کی نج بدلے بغیر اس عمر میں بچے پر نیک اثر نہیں ڈال سکتے۔وہ سننے سے زیادہ دیکھ کر اثرات قبول کر رہا ہوتا ہے سُن کر بھی کرتا ہے لیکن وہ لاشعوری طور پر اثر قبول کر رہا ہوتا ہے۔سمجھ کر نہیں کر رہا ہوتا۔جو چیز اس کو اچھی لگتی ہے وہ طبعا اور فطرتا اس کا اثر قبول کرتا ہے اور جو چیز اُسے بُری لگ رہی ہوتی ہے وہ اس سے دور ہٹ رہا ہوتا ہے مثلاً کھانے کے معاملہ میں آپ دیکھ لیں اس عمر میں آپ بچے کو سمجھانے کی لاکھ کوشش کریں کہ یہ چیز اچھی ہے یہ کھاؤ وہ کہے گا کہ نہیں مجھے نہیں اچھی لگتی لیکن جب وہ کم و بیش سات سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو پھر وہ بات کو سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں میں کوشش کرتا ہوں اور کچھ دیر کوشش کے بعد اس کو اچھی بھی لگنے لگ جاتی ہے۔بعض