مشعل راہ جلد سوم — Page 293
مشعل راه جلد سوم 293 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی حضور رحمہ اللہ نے فرمایا:- یہ خطبہ جس کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں میرا ارادہ ہے کہ اس خطبہ میں کوئی تربیتی مضمون بیان کروں گا کیونکہ بعض تربیتی پہلو ایسے ہیں جن کے متعلق جماعت کو بار بار بتانا اور ان کو یاد دہانی کرواتے رہنا بہت ضروری ہے۔چنانچہ اس غرض کے لئے میں وقتا فوقتا مختلف قسم کے مضامین چنتا ہوں اور پھر کوشش کرتا ہوں کہ میں ان کے بعض پہلوؤں پر اچھی طرح روشنی ڈالوں۔کچھ پہلو بچ جاتے ہیں ان کو پھر میں آئندہ خطبہ کے لئے اٹھا رکھتا ہوں۔بیچ میں وقتی ضروریات کے ماتحت خطبے دینے پڑتے ہیں۔بہر حال اس مرتبہ میں نے یہی ارادہ کیا تھا کہ تربیتی امور سے متعلق عمومی رنگ میں کچھ بیان کروں گا لیکن اس عرصہ میں پشاور سے ہمارے ایک مخلص احمدی دوست جو جوانی کی عمر میں خود احمدی ہوئے ہیں یعنی جوانی سے ذرا آگے بڑھ کر درمیان کی جو عمر ہے اس میں ان کو قبول احمدیت کی توفیق ملی ہے۔بڑا علمی ذوق رکھتے ہیں۔نفسیات ان کا مضمون رہا ہے جماعتی اور دینی معاملات میں ان کی سوچ بچار پر ان کے نفسیات کے مضمون کا بھی اثر پڑتا رہتا ہے ان کی طرف سے ایک ایسے ہی مضمون سے متعلق خطبہ دینے کے لئے یا جماعت کو عمومی نصیحت کرنے کے لئے مجھے متوجہ کیا گیا ہے۔نصیحت کا ایک خاص پہلو ہے جو ان کے پیش نظر تھا ان کو چونکہ سوچ بچار کی عادت ہے مختلف تربیتی مسائل پر غور کرتے رہتے ہیں چنانچہ انہوں نے مجھے لکھا کہ میں نے جماعتی نظام پر بہت غور کیا اور کرتا رہتا ہوں اور جتنا غور کیا میں حیرت میں ڈوبتا چلا گیا کہ حضرت فضل عمرکو اللہ تعالیٰ نے کیسا عظیم الشان اور کامل تربیتی نظام قائم کرنے کی توفیق بخشی ہے لیکن ایک پہلو ایسا ہے جس کے متعلق میرا ذہن پوری طرح مطمئن نہیں ہو سکا۔اور بار با خیالات میرے دل کو کریدتے رہے کہ یہ پہلو کیوں تشنہ ہے اور وہ ہے پیدائش سے لے کر سات سال کی عمر تک بچوں کو کسی نظام کے سپرد نہ کرنا۔وہ لکھتے ہیں کہ انسانی عمر کے جو مختلف ادوار میں نفسیاتی لحاظ سے سب سے اہم دور یہ ابتدائی دور ہے۔اس دور میں بچہ۔