مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 294 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 294

294 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم جو سیکھ جائے وہ سیکھ جاتا ہے اور پھر مزید سیکھنے کی اہلیت اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔اور اگر اس دور میں کسی پہلو سے اس کی تعلیم میں تشنگی رہ جائے تو بسا اوقات بڑی عمر میں جا کر وہ تشنگی پوری ہو ہی نہیں سکتی اور وہ پہلو ہمیشہ کے لئے ایک خلا بن جاتا ہے جس طرح بعض دفعہ شیشہ ڈھالتے وقت اندر بلبلے رہ جاتے ہیں اس طرح انسانی دماغ میں بھی بعض علمی پہلوؤں سے بلبلے رہ جاتے ہیں اور یہ بات ان کی درست ہے۔کم سن بچوں کی تربیت اور والدین کی ذمہ داری میں نے بھی جہاں تک مطالعہ کیا ہے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بچے کی تربیت کا عمل اس کی پیدائش سے شروع ہو جاتا ہے چنانچہ بعض ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ اگر بچے کو چھوٹی عمر میں ہی زبان نہ سکھائی جائے ایک لمبا خلا مثلاً سات آٹھ سال تک مسلسل خلا چلا جائے تو اس کے بعد بچہ کوئی زبان سیکھ ہی نہیں سکتا۔پھر آپ جتنا چاہیں زور لگا ئیں جتنی چاہیں کوشش کر لیں مستقل خلا جو پیدا ہو جائے گا اس کو پر کرنا مشکل ہے۔اسی طرح بعض علوم یا بعض ذوق ایسے ہیں جو بچپن میں پیدا نہ ہوں تو پھر بعد میں آگے چل کر پیدا نہیں ہوتے۔غرض ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کیوں سات سال سے چھوٹے بچوں کو کسی تنظیم کے سپرد نہیں کیا گیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس عمر میں بچے ماں اور باپ کے سپر د ہوتے ہیں۔قرآن کریم نے بھی اس پہلو سے روشنی ڈالی ہے اور احادیث میں بھی کثرت سے اس کا ذکر ملتا ہے ہاں یہ بات صحیح ہے کہ والدین کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے ان کو بار بار یاد دہانی کی ضرورت ہے بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کی پیدائش کے بعد چند لحات کے اندراندر بچے کے دائیں کان میں اذان دینا اور بائیں کان میں تکبیر کہنا اپنے اندر ایک بہت ہی عظیم الشان اور گہری حکمت رکھتا ہے۔یہ حکم بتانے کے لئے دیا گیا ہے کہ بچے کی عمر کا ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہے جو تربیت سے خالی رہے اور کوئی لمحہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق تم جواب دہ نہیں ہو گے عملاً جب اذان دیتے ہیں تو بچہ تو اس اذان کے لئے جواب دہ نہیں ہے نہ اس تکبیر کے لئے جواب دہ ہے اور نہ وہ ان باتوں کو سمجھ رہا ہوتا ہے اس میں در اصل ماں باپ کو متوجہ کیا جارہا ہے کہ تم نے اپنے بچے کی پہلے دن سے دینی رنگ میں تربیت کرنی ہے اگر نہیں کرو گے تو تم جواب دہ ہو گے۔اس کی اور بھی بہت سی حکمتیں ہیں لیکن ایک بڑی اہم حکمت یہی ہے جو میں نے بیان کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں تک