مشعل راہ جلد سوم — Page 279
279 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم زاویوں سے دیکھے جاتے ہیں ایک وحدت کا منظر ہے آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنا اور ایک ہو جانا ، جغرافیائی تفریقات کو بھلا دینا ، رنگ اور نسل کے امتیازات کو فراموش کر دینا اور یک جان ہو جانا۔اس پہلو سے بھی تو حید کو دنیا میں قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اور یہ حض تلقین سے قائم نہیں ہوسکتی بلکہ اس سلسلہ میں با قاعدہ منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔دین کے تمدن کی روح کو غالب رکھیں اس پہلو پر غور کرتے ہوئے جو فوری چیز سامنے آتی ہے وہ ہر ملک کے مختلف نسلوں مختلف رنگوں اور مختلف قوموں سے آنے والے لوگوں کے باہم امتزاج کا مسئلہ ہے۔یہ مسئلہ ہر جگہ سر اٹھانے لگا ہے جس کی وجہ سے بعض غلط فہمیاں پیدا ہورہی ہیں اور بعض خطرات سامنے ابھر رہے ہیں۔اس لئے فوری طور پر جماعتوں کو اس طرف متوجہ ہونا چاہیے کہ اگر انگلستان میں انگریز احمدی ہوتے ہیں تو آپ حسن خلق سے ان سے پیار کر کے ان کو اپنے معاشرے میں جذب کرنے کی پوری کوشش کرتے ہوئے انہیں اس بات کا احساس نہ ہونے دیں کہ وہ تنہا ہو گئے ہیں، اس بات کا احساس نہ ہونے دیں کہ وہ ایک مغربی معاشرہ سے ایک ایسے معاشرہ کی طرف آئے ہیں جہاں انہیں مذہبی اقدار تو ملیں لیکن متبادل معاشرہ نصیب نہیں ہوا یعنی یہ توفیق نہیں ملی کہ وہ جس Civilization کو جس تمدن کو چھوڑ کر آئے تھے اس کے بدلے میں کوئی مخصوص تمدن اپنا سکیں۔جہاں تک ان کو نئے تمدن سے روشناس کرانے کا تعلق ہے۔اگر ( دین حق ) کے نام پر انہیں پاکستانی تمدن دیا جائے تو یہ ان کے ساتھ انصاف ہے نہ دین کے ساتھ انصاف ہے۔حقیقت میں ہر قوم کے کچھ تمدنی پہلو ہیں جو اس قوم کی زندگی کا جزو بن چکے ہوتے ہیں اور کچھ مذہبی پہلو ہیں جو تمدن بن چکے ہیں۔جہاں تک دین حق کے تمدن کا تعلق ہے ان دونوں دھاگوں کو الگ الگ کرنا پڑے گا۔مقامی تمدن کے سیاہ دھاگوں کو ( دین حق ) کے تمدن کے سفید دھاگوں سے الگ کرنا پڑے گا۔اور قوموں کو یہ پیغام دینا پڑے گا کہ جہاں تک دینی تمدن کا تعلق ہے۔یہ وہ خطوط ہیں جن سے تم تجاوز نہیں کر سکتے۔ان راہوں سے ہٹو گے تو دین کی راہوں سے ہٹو گے۔اور یہ وہ خطوط ہیں جن میں تمہیں اختیار ہے لیکن عمومی دینی ہدایات کے تابع رہ کر اپنے لئے تمدن کی راہیں تلاش کرو، یا مقامی تمدن میں سے اچھی چیزیں اخذ کر لو۔پاکستانی احمدیوں کو بھی اپنے تمدن میں اُسی حد تک تبدیلی پیدا کرنی چاہیے جس حد تک ( دین حق ) اجازت دیتا ہے یا جس حد تک دوسری قوم کو اپنے اندر شامل کرنے کے لئے ان کی خاطر کچھ تمدنی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔جسے