مشعل راہ جلد سوم — Page 278
مشعل راه جلد سوم 278 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ اس ملک کے مقامی باشندے زیادہ نمایاں تعداد میں نظر آنے لگے ہیں اور نمایاں دلچسپی لینے لگے ہیں ایسی جگہوں میں ہمیں تربیت کی طرف دو طرح سے متوجہ ہونا پڑے گا۔اوّل یہ کہ مجالس عاملہ کو مربیان کے پیچھے پیچھے چلنے والا تربیت کا ایک Follow up ( یعنی بعد میں آنے والا ) گروپ تیار کرنا چاہیے۔وہ تربیتی امور کے ماہر ہوں۔خصوصیت کے ساتھ ان کے سپرد یہ کام کیا جائے کہ آپ یہ سوچتے رہیں کہ نئے آنے والوں کی تربیت میں کس کس چیز کی ضرورت ہے۔ہر ملک کی ضرورت الگ الگ ہوگی۔اس لئے مرکز سے تحریک جدید بھی کوئی معین ہدایت نہیں دے سکتی اور نہ میں یہاں بیٹھے معین طور پر ہر ایک ملک کی ضروریات کا تعین کرسکتا ہوں۔دورے کے دوران جو چیزیں سامنے آتی ہیں ان سے متعلق تو ہدایات دی جاتی ہیں مگر یہ تو ممکن نہیں کہ انسان لٹو کی طرح ہر وقت تمام دنیا کی جماعتوں میں گھومتار ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے سو سے زائد ممالک میں جماعتیں قائم ہو چکی ہیں اور جماعتوں کی کل تعداد آپ شمار کریں تو عملاً دس سال میں بھی ایک ایک دن کا دورہ پورا نہیں ہو سکتا۔اس لئے ان معاملات میں مقامی جماعتوں کو اپنی ذمہ داری کو خود ادا کرنا چاہیے اور بالغ نظری کے ساتھ ان معاملات کو سلجھانا چاہیے کیونکہ اگر وہ بھی ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے تو آئندہ زیادہ وقتیں پیش آجائیں گی۔جماعت کو طرز عمل میں توحید کا منظر پیش کرنا چاہیے سب سے اہم بات جس کو تمام جماعت کی مجالس عاملہ کوملحوظ رکھنا چاہیے وہ تو حید ہے۔تو حید خالص کسی آسمان پر بسنے والی چیز کا نام نہیں ہے۔(دین حق) جس خدا کو پیش کرتا ہے وہ آسمانوں کا بھی خدا ہے اور زمینوں کا بھی خدا ہے۔اس سے کائنات کا کوئی حصہ بھی خالص نہیں۔وہ نور السموات والارض ہے۔اس کی توحید کے دائرہ سے کوئی چیز بھی باہر نہیں۔اس کی توحید کے اثر اور نفوذ سے کوئی چیز خالی نہیں ہونی چاہیے۔اس لئے جماعت احمدیہ جو حقیقی توحید پرست جماعت ہے۔اسے اپنے طرز عمل میں توحید کا منظر پیش کرنا چاہیے۔اگر جماعت احمد یہ ایک الگ کردار لے کر اٹھ رہی ہو اور افریقہ کی جماعتیں ایک الگ کردار لے کر اٹھ رہی ہوں اور اسی طرح یورپ اور امریکہ ، چین اور جاپان ، انڈو نیشیا اور ملائشیا کی اور دیگر ممالک کی جماعتیں اپنا اپنا ایک الگ کردار بنا رہی ہوں تو توحید قائم نہیں ہوسکتی۔توحید عمل کی دنیا میں دکھائی دینی چاہیے۔خدا کے نام پر اکٹھے ہونے والے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جمع ہونے والے ایک ہو جانے چاہئیں اور انہیں وحدت کا منظر پیش کرنا چاہیے۔وحدت کے مناظر مختلف شکلوں سے مختلف