مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 277

مشعل راه جلد سوم 277 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 7 نومبر 1986ء کو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:- ابھی جرمنی ، پیجئیم اور ہالینڈ کے ایک مختصر دورے سے واپس آیا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ دورہ کئی پہلوؤں سے مفید ثابت ہوا ، بہت سے امور کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔کئی امور خوشی والے تھے ، کئی قابل توجہ تھے جو دور بیٹھے نظر نہیں آتے۔مگر قریب کے رابطے اور دوستوں کے ساتھ ملاقاتوں کے نتیجہ میں کئی نئے نئے رستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔اس لحاظ یہ دورے اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی مفید ثابت ہور ہے ہیں۔جرمنی کے نوجوانوں میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی جوش پایا جاتا ہے میرا تاثر یہ ہے کہ جرمنی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کے غیر معمولی امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔کیونکہ جہاں تک وہاں جماعت کا تعلق ہے اس کا ایک بڑا حصہ نو جوانوں پر مشتمل ہے۔ان کے اندر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی جوش پایا جاتا ہے اور قربانی کا بہت مادہ ہے۔اگر ان کو اچھی طرح سنبھال لیا جائے ( اور یہی بات قابل توجہ ہے ) تو وہ جرمنی کا مستقبل بنانے میں ایک بہت ہی عظیم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس طرح جرمن نو جوان بھی اور جرمن خواتین بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت ہی اعلیٰ معیار کے احمدی ہیں بلکہ بعض صورتوں میں تو ان کا معیار اتنا بلند ہے کہ ان کو دیکھ کر بعض پاکستانی احمدی جو باہر سے آئے ہوئے ہوتے ہیں۔وہ ان کے مقابل پر درجہ دوئم کے احمدی نظر آنے لگتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ تشویشناک صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔مجھ سے دو جر من احمدیوں نے ذکر کیا کہ پاکستان سے آنے والے بعض احمدیوں کا رویہ افسوسناک ہے۔اس کے نتیجہ میں جرمن احمدیوں کے لئے ٹھوکر کا سامان پیدا ہوتا ہے۔ان امور پر غور کرتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ ساری دنیا کی احمدی جماعتوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہیے۔جہاں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مقامی جماعتیں عطا ہو رہی ہیں یعنی ایسی جماعتیں جن میں