مشعل راہ جلد سوم — Page 271
مشعل راه جلد سوم 271 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ میں، کیونکہ لمبے عرصہ سے وہ لوگ آئے ہوئے تھے اس لئے فارسی کا تلفظ بدل چکا تھا۔وہ وہاں پی ایچ ڈی کرنے کے لئے آئے۔تو جو فارسی کے پروفیسر تھے وہاں انہوں نے ایک دن مجھے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ کونسی فارسی بولتا ہے مجھے ایک لفظ سمجھ نہیں آتی بالکل اور زبان لگتی ہے تو ساری عمر کی جو محنت تھی ان کی فارسی زبان کی وہ ضائع گئی۔ایران میں جاتے تب بھی ان کو سمجھ نہ آتی۔زبانیں سیکھیں اور زبان کا معیار بلند کریں تو آپ زبانیں سیکھیں اور زبان کو صیح تلفظ میں سیکھیں اور زبان کا معیار بلند کرنے کی کوشش کریں پھر یہ قوم آپ کو عزت سے دیکھے گی پھر یہ آپ کو اپنے اندر شامل ہونے دے گی۔ورنہ یہاں احمدیت کی دو قو میں پیدا ہو جائیں گی ایک جرمن احمدی اور ایک غیر جرمن احمدی اور کسی جماعت کے مقصد کو نقصان پہنچانے کے لئے سب سے خطر ناک بات یہ ہوا کرتی ہے۔ایسی جماعت جس کے اندر فرقے بٹ جائیں اور ریسز کی طرح یعنی قومیتیں نظریے کے اندر پیدا ہو جائیں وہ انتہائی نقصان دہ بات ہوا کرتی ہے کسی نظریے کے لئے۔میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بھی بہت سا نقصان پہنچ چکا ہے زبان کے نہ آنے کے نتیجہ میں آپ نفوذ نہیں کر سکتے۔زبان کے نہ آنے کے نتیجہ میں آپ کے اندر جو Inferiority Complex یعنی احساس کمتری پیدا ہو جاتا ہے اس کا حل آپ یہ کرتے ہیں کہ آپس میں بولتے ہیں اور آپس میں تعلقات بڑھاتے ہیں۔جرمن احمدی جو پیدا ہورہا ہے اگر چہ آپ اس کو پیدا کر رہے ہیں لیکن پیدا کر کے اپنے سے پرے دھکیلنا شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اور قوم ہیں اور ہم اور قوم۔اس کے نتیجہ میں چونکہ احمدیت آپ سے اس کو ملی ، ( دین حق ) آپ سے اس نے سیکھا وہ آپ کے متعلق جو بدظنیاں ، بُرے خیالات قائم کرتا ہے آپ کے مذہب کے متعلق بھی ویسے ہی خیالات آہستہ آہستہ قائم کرنے لگ جاتا ہے۔آپ کی بدسلو کی اس کے اندر مذہب کے خلاف بھی رد عمل پیدا کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یورپ میں اکثر ممالک میں جب سے احمدیت آئی ہے ایک بہت بڑا حصہ ہے۔جو ایک طرف سے آئے اور کچھ دیر رہ کر اس کے بعد دوسرے دروازے سے باہر نکل گئے اور اس میں سب سے بڑا نقصان ہمارے اس قومی غلط رجحان نے پہنچایا ہے۔غیر ہمارے اندر آتا ہے باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعی طور پر نصیحت فرمائی ہے کہ جب کوئی شخص موجود ہو تو اس طرح باتیں نہ کرو آپس میں کہ ایک دوسرے کو پتہ نہ لگے۔جب آپ آپس میں باتیں شروع کر دیتے ہیں اور اس کی زبان نہیں بولتے تو وہ سمجھتا ہے کہ میری یہاں ضرورت نہیں وہ سمجھتا ہے کہ میری بے عزتی کی گئی ہے