مشعل راہ جلد سوم — Page 23
23 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اور تیرا فضل نصیب ہو گیا تو پھر تظمین والی کیفیت تو ہمارے مقدر میں آگئی ، اب تو ہمیں غصہ برداشت کرنا پڑے گا۔وَ الْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ جنہوں نے اُن کو دکھ دیے ہوتے ہیں اُن سب کو معاف کر دیتے ہیں۔غالب کہتا ہے۔سفینہ جب کہ کنارے پر آ لگا غالب خدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے یہ ایک ناقص اظہار ہے اسی مضمون کا لیکن وہ ایک کامل اظہار ہے قرآن کریم کی آیت میں جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کروارہا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب یہ لوگ اپنے خدا کو پالیتے ہیں اور انہیں جنتیں نصیب ہو جاتی ہیں تو مصائب والم کی یادیں ان کے دلوں میں تلخی پیدا نہیں کرتیں۔ان مشکل را ہوں کی یاد میں جن سے گذر کر یہ میری رضا کی جنت میں داخل ہوئے ہوتے ہیں ان کو بد دعائیں دینے پر آمادہ نہیں کیا کرتیں۔وہ دعائیں دیتے ہیں ان لوگوں کو بھی جنہوں نے ان کو دکھ پہنچائے تھے اُن کے لئے بھی خیر کے سوا اُن کے دل سے کچھ نہیں نکالتا۔اپنے ملک کی ترقی اور استحکام کے لئے دعائیں کریں پس آج کا پیغام میرا یہی ہے کہ ہمارا وہ ملک جس کے دکھوں کے ستائے ہوئے آپ لوگ یہاں آئے تھے جب خدا کی رضا آپ کو حاصل ہو گئی ، جب اللہ نے اپنے پیار کی جنت آپ کو عطا کر دی تو اس کی بخشش کے لئے ، اس کی ترقی کے لئے اور اُس کے استحکام کے لئے دعائیں کریں۔اس کے سوا اپنے دل میں کچھ نہ رکھیں۔کیونکہ خدا آپ سے یہ توقع رکھتا ہے کہ جب تم نے خدا کی رضا پالی تمہیں خدا کا پیارمل گیا تو پھر اس کے بعد کسی کا شکوہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔تم ان لوگوں کو معاف کر دو، ان سے محبت کا سلوک کرو۔ان کے لئے دعائیں کرو اور دعا کرو کہ یہ محروم بھی تمہارے ساتھ مل کر الہی جنتوں میں داخل ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو! اگر تم دکھ دینے والوں کو معاف کر دو گے تو میں تمہیں ضمانت دیتا ہوں وَ اللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ایسے احسان کرنے والوں سے اللہ بہت ہی محبت کرتا ہے تمہیں اللہ کی محبت کا مقام نصیب ہو جائے گا جو رضائے الہی کا بہت ہی پیارا اور آخری مقام ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں رہیں اور خدا کی محبت اور پیار کی نظریں ہم پر پڑتی رہیں ہم جس حال میں اور جس ملک میں رہیں رضائے باری اور محبت الہی کی جنت ہمیں حاصل رہے اور یہ جنت ہم سے کوئی چھین نہ سکے۔مطبوعه روز نامه الفضل 31 اکتوبر 1983ء)