مشعل راہ جلد سوم — Page 238
238 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم وجود میں نمودار ہو اور تمہاری پیشانیوں میں اثر سجود نظر آوے اور خدا تعالیٰ کی بندگی تم میں قائم ہو۔اگر قرآن اور حدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہر گز اس کو قبول نہ کرو اور یقینا سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔توحید پر قائم رہو اور نماز کے پابند ہو جاؤ اور اپنے مولائے حقیقی کے حکموں پر سب کو مقدم رکھو اور دین حق کے لئے سارے دکھ اُٹھاؤ۔) یورپ کے احمدی نوجوانوں کے فرائض یورپ کے احمدی نوجوانوں کا دوسرا فرض یہ ہے کہ وہ زندگی بھر اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور بچی غم خواری میں وقف رہیں اور نہ صرف زبان سے بلکہ اپنے عمل سے اور پاک نمونہ سے ثابت کر دیں کہ انسانی تعلقات کے دائرہ میں بھی ( دین حق ) کی تعلیم ہر دوسری تعلیم سے افضل واعلیٰ اور اکمل اور احسن ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس تعلیم کا نچوڑ چند فقروں میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ۔قرآن انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو بلکہ وہ کہتا ہے کہ چاہیے کہ نفسانی رنگ میں تیرا کوئی بھی دشمن نہ ہو۔اور تیری ہمدردی ہر ایک کے لئے عام ہو۔مگر جو تیرے خدا کا دشمن تیرے رسول کا دشمن اور کتاب اللہ کا دشمن ہے وہی تیرا دشمن ہوگا تو ایسے کو بھی دعوت اور دعا سے محروم نہ رکھ اور چاہیے کہ تو ان کے اعمال سے دشمنی رکھے نہ ان کی ذات سے اور کوشش کرے کہ وہ درست ہو جائیں اور اس بارے میں فرماتا ہے إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرُبى (النحل:91)۔یعنی خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔بس یہی کہ تم نوع انسان سے عدل کے ساتھ پیش آیا کرو۔پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان سے بھی نیکی کرو جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی۔پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی سے پیش آؤ کہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو۔جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں کیونکہ احسان میں ایک خود نمائی کا مادہ بھی مخفی ہوتا ہے اور احسان کرنے والا کبھی اپنے احسان کو جتلا بھی دیتا ہے لیکن وہ جو ماں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرتا ہے وہ کبھی خود نمائی نہیں کر سکتا۔پس آخری درجہ نیکیوں کا طبعی جوش ہے جو ماں کی طرح ہو۔“ (کشتی نوح صفحه 28) بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی کا اولین تقاضہ یہ ہے کہ ان کی مادی فلاح و بہبود سے بڑھ کر ان کی روحانی فلاح و بہبود کے لئے کوشش کریں اور اس کوشش میں اپنے آقا و مولے پیغمبر کامل حضرت اقدس