مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 239

239 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلوب سیکھیں اور آپ ہی کے رنگ پکڑیں۔جس طرح آپ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے ہمہ وقت غم و افسردگی میں مبتلا رہتے تھے اور اپنی جان کو یہ ایک روگ سالگا رکھا تھا۔چاہیے کہ آپ میں سے بھی ہر ایک اس جانکا ہی اور دلسوزی کے ساتھ فریضہ ( دعوت الی اللہ ) ادا کرے۔اور چین سے نہ بیٹھے جب تک مغرب سے سچائی کے سورج کے طلوع ہونے کے آثار ہو یدا نہ ہو جائیں اور وہ صبح صادق نمودار نہ ہو جائے جس کی بشارت مخبر صادق نے ہمیں 1400 برس پہلے دی تھی۔مغرب سے اس طلوع آفتاب کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔(اس کے بعد حضور نے حضرت بانی سلسلہ کی کتاب ازالہ اوہام صفحہ 515 میں سے ایک اقتباس پیش فرمایا جس میں حضرت بانی سلسلہ نے فرمایا ہے اس عاجز پر جو ایک رویا میں ظاہر کیا گیا وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر وضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے اور ان کو دین حق سے حصہ ملے گا۔حضرت بانی سلسلہ نے فرمایا ہے کہ میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے دین حق کی صداقت بیان کر رہا ہوں بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق ان کا جسم ہوگا اور میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگر چہ میں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کا شکار ہو جائیں گے۔در حقیقت آج تک مغربی ملکوں کی مناسبت دینی سچائیوں کے ساتھ بہت کم رہی ہے۔گویا خدا تعالیٰ نے دین کی تمام عقل ایشیاء کو دے دی اور دنیا کی عقل تمام یورپ اور امریکہ کو نبیوں کا سلسلہ بھی اول سے آخر تک ایشیاء کے ہی حصہ میں رہا اور ولایت کے کمالات بھی انہیں لوگوں کو ملے۔اب خدا تعالیٰ ان لوگوں پر نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے ) دُعا ہی ہے جو ہماری کوشش کے بے رنگ خاکوں میں رنگ بھرتی ہے پس اے میرے عزیز و! آپ کامل یقین اور توکل اور صبر اور استقلال اور جانسوزی اور وفاداری کے ساتھ اپنی تمام صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے ان روشن دنوں کو قریب تر لانے کی کوشش کرتے رہیں جن کا آنا آسمان پر مقدر ہو چکا ہے اور دعا سے بھی کسی وقت غافل نہ رہیں۔کیونکہ دُعا ہی ہے جو ہماری کوشش کے بے رنگ خاکوں میں رنگ بھرتی ہے اور ہمارے منصوبوں کی بے جان تصویروں کو زندگی عطا کرتی ہے۔