مشعل راہ جلد سوم — Page 209
مشعل راه جلد سوم 209 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی توجہ نہیں ہے۔عبادت کے کئی مراحل ہیں اور آپ جو خدام الاحمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں یہ آپ کا عبادت کا زمانہ ہے وہ لوگ جو جوانی میں عبادت نہیں کرنا جانتے ان کی بڑھاپے کی عبادتیں بھی بے کار ہوتی ہیں سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کا فضل غیر معمولی طور پر کسی کو تو فیق عطا فرمائے۔حقیقت یہ ہے کہ جوانی ہی وہ دور ہے جس میں عبادت کرنے کا مزہ بھی آتا ہے اور عبادت کرنے کی توفیق بھی زیادہ ملتی ہے بڑھاپے میں تو کمزوریاں اور بیماریاں ہیں ہڈیاں دکھتی ہیں انسان خواہش بھی کرتا ہے تو بعض دفعہ آنکھ نہیں کھلتی ، آنکھ کھلتی ہے تو دماغ سستی اور کمزوری کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔طبیعت میں زور نہیں رہتا اور انسان اپنی عبادت میں جان نہیں ڈال سکتا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے استثناء ہیں، جو استثناء آپ کو نظر آئیں گے ان میں سے اکثر وہ لوگ نظر آئیں گے جنہیں جوانی میں عبادت کی عادت پڑی تھی وہی عبادتیں ہی جو پھر آگے بڑھاپے میں بھی ان کا ساتھ دیتی رہیں تو عبادت کی طرف توجہ کریں۔اور بڑے اہتمام اور توجہ سے نماز با جماعت قائم کریں اور صرف نماز با جماعت ہی کو قائم نہ کریں بلکہ خدام کو بار بار یاد دہانی کروائیں کہ وہ نماز میں اللہ تعالیٰ کے تعلق کو ہمیشہ یادرکھا کریں اور زندہ رکھا کریں۔اکثر نماز پڑھنے والے ایسے ہیں کہ وہ نماز پڑھنے کے عادی بھی ہیں لیکن غفلت کی حالت میں نماز ادا کرتے ہیں۔سورۃ فاتحہ ایک ایسا بڑا خزانہ ہے جو نہ ختم ہونے والا ہے لیکن اس پر بھی پورا غور نہیں کرتے۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ عبادت قائم کریں تو مراد یہ ہے کہ عبادت کو اس کی کچی روح کے ساتھ قائم کریں۔عورتیں بھی، بچے بھی ، مرد بھی ، بوڑھے اور جوان بھی۔جہاں جہاں احمدی ہو وہ خدا کا سب سے زیادہ عبادت کرنے والا بندہ بن جائے اور عبادت کا جھنڈا اٹھا لے کیونکہ خدا تعالیٰ عبادت کرنے والوں کو کبھی ضائع نہیں کیا کرتا۔ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ دنیا کے مقابل پر عبادت کرنے والوں کو ہلاک ہونے دے۔اس لئے جتنی زیادہ مخالفت باہر سے ہوتی ہے اتنی ہی زیادہ آپ کو عبادت کی ضرورت ہے۔آپ جانتے ہیں کہ یہی وہ مرکزی نقطہ تھا جس کو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن دعا کے لئے اختیار فرمایا، جب ایسی نازک حالت تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ چند لمحوں کے اندر دشمن کی قوی فوج چند بیچارے نہتے اور کمزور اور ایسے مسلمانوں کو جن میں بوڑھے بچے اور بہت ہی کمزور، بیمار اور لنگڑے بھی شامل تھے، انہیں تہ تیغ کر کے رکھ دیں گے۔ان کے ٹکڑے اُڑا دینگے اس وقت بظاہر تو یہی نظر آ رہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عرفان نے آپ کو یہ گر سکھایا کہ آج سب سے زیادہ مقبول دعا وہ ہوگی جس میں عبادت کا حوالہ دیا جائے گا۔اس دن آپ نے خدا کے حضور روتے ہوئے یہ عرض کیا کہ اے خدا! اگر آج تو نے اس