مشعل راہ جلد سوم — Page 208
208 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم جہاں تک خدا تعالیٰ سے تعلق کا مضمون ہے سب سے زیادہ سب سے عظیم الشان جو القاب عطا فر مایا گیا وہ عبد اللہ کا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے غلام، اللہ کے بندے تھے اور عبودیت کے تمام باریک سے باریک پہلوجو ممکن ہیں ، جو انسان سوچ سکتا ہے یا نہیں بھی سوچ سکتا ان سب پہلوؤں تک آپ کی رسائی اور آپ کی نظر تھی اور آپ نے انہیں اپنے عمل میں ڈھال لیا تو کامل عبد بن گئے۔یعنی خدا تعالیٰ سے تعلق کے اظہار کا آخری نتیجہ یہ بنتا ہے کہ انسان اپنے مولیٰ کا غلام ہو جاتا ہے۔غلام کن معنوں میں ہو جاتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَ نُسُكِي وَ مَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنِ (الانعام: 163 ) کہ اب میرا اپنا کچھ بھی نہیں رہا جو کچھ ہے وہ خدا کا ہو چکا ہے پس ان معنوں میں اگر ہم اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں اور اللہ کے غلام بن جائیں، اللہ کی عبادت کے گر سیکھ جائیں تو ہمارا ایک پہلو بڑا مضبوط ہو جاتا ہے جب لڑائی کرنے والا لڑائی کے لئے جاتا ہے تو اس کے دو پہلو ہوتے ہیں تو دونوں پہلو مضبوط ہونے چاہئیں۔ایک پہلو تو ہمارا بڑا مضبوط ہو جاتا ہے اور دوسرا پہلو کونسا ہے دوسرا پہلو بنی نوع سے تعلق ہے اس سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کا یہ خلاصہ بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ رحمۃ للعالمین تھے۔تمام بنی نوع انسان تمام جہانوں کے لئے آپ رحمت تھے۔تو یہ دوگر ہیں انہیں آپ سیکھ جائیں اور ان پر عمل کرنا شروع کر دیں تو ساری دنیا آپ کے قدموں میں پڑی ہوگی پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔کیونکہ خدا کے وہ بندے جو عبادت کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں اور بنی نوع انسان پر رحمت اور شفقت کے ساتھ مائل ہوتے ہیں اور ان کے لئے قربانیاں کرتے ہیں خدا کے یہ بندے ہمیشہ فتح کے لئے پیدا کئے جاتے ہیں اور ان کے مقدر میں مغلوب ہونا نہیں لکھا جاتا۔پس خدا کے عبادت کرنے والے بندے بنیں۔عبادت کرنے کی طرف توجہ کریں عبادت میں جو بڑے وسیع مفہوم ہیں وہ انسانی زندگی کے ہر دائرہ پر حاوی ہیں جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اور رحمتہ للعالمین میں جو مضامین ہیں وہ انسانی زندگی کے اس سارے دائرہ پر حاوی ہیں جس کا تعلق بنی نوع انسان سے ہے لیکن میں یہ دیکھتا ہوں کہ ابھی عبادت کی طرف جیسا کہ حق ہے پوری طرح