مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 207 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 207

مشعل راه جلد سوم 207 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی حضور رحمہ اللہ نے دورہ نجی کے بعد مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے جو خطاب فرمایا اُس کا متعلقہ حصہ پیش ہے:۔ایک عظیم انقلاب اور ہماری ذمہ داری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں آخر پر آپ کو دو باتوں کی طرف خصوصیت سے توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اس سارے سفر میں میں نے یہ محسوس کیا اور میں بار بار پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ہماری مجموعی طاقت بھی اس لائق نہیں ہے کہ دنیا میں وہ عظیم انقلاب بر پا کر سکے جس کی ذمہ داری ہمارے نازک کندھوں پر ڈالی گئی ہے لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہ میں کسی نفس پر بوجھ ڈالتا ہی نہیں جب تک اس میں وسعت نہ ہوتو ہمارے تخمینے جو بھی کہیں یہ ہمیں معلوم ہے کہ ہم میں کوئی نہ کوئی مخفی وسعتیں ضرور ہیں جن کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ہم پر یہ بوجھ ڈالا ہے۔وہ وسعتیں کیا ہیں؟ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے نمونہ بنا کر بھجوایا اور ایک کامیاب نمونہ کے طور پر آپ نے زندگی گزاری اور حیرت انگیز ناممکن کام کر کے دکھا دیے تو خدا تعالیٰ نے ہمیں جو وسعت عطا کی ہے وہ غلامی کی وسعت ہے۔راز کی بات یہ بنی جہاں جا کر تان ٹوٹتی ہے کہ اگر تم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچے غلام بن جاؤ گے تو میں تمہاری وسعتوں کو بڑھاتا چلا جاؤں گا۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت تو بہت تفصیلی مضمون ہے لیکن قرآن کریم نے اس کا دولفظوں میں خلاصہ بیان فرما دیا ہے کہ انسان کے تعلقات کے دو ہی رخ ہیں۔ایک سمت خدا ہے اور ایک طرف مخلوق ہے۔یا خدا سے تعلق ہے یا مخلوق سے۔