مشعل راہ جلد سوم — Page 12
مشعل راه جلد سوم 12 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی پڑھنے کی یا تو وہ جگہ نہیں پاتے یا عام جگہوں پر نماز پڑھنے سے شرما جاتے ہیں یا ایسی جگہیں جہاں ( بیوت الذکر ) دور دور ہوں اور بہت کم مواقع ملیں (بیوت الذکر ) میں حاضری کے لئے وہاں باجماعت نماز کا تصور اُٹھ جاتا ہے۔پھرا کیلی نماز بھی پوری نہیں رہتی۔پھر موسم کے تقاضے ایسے ہوتے ہیں کہ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ سورج کا نکلنا یا نہ نکلنا یہ تو عارضی نشانیاں ہیں۔ہم جن ملکوں میں بس رہے ہیں اُن سے بالا ہیں۔اس لئے جب آنکھ کھلے اس وقت نماز پڑھ لینی چاہیئے۔یہ کمزور یاں رفتہ رفتہ بڑھنے لگتی ہیں۔پھر نمازیں جمع کرنے کی طرف رجحان ہو جاتا ہے۔پھر نمازیں جمع کرتے کرتے نمازیں MISS بھی ہونے لگ جاتی ہیں۔یہ سارا ایک ایسا تکلیف دہ اور پر عذاب منظر ہے جو بعض ملکوں کا مقدر ہے اور وہاں جب تک ایک ذہین آدمی پوری بیدار مغزی کے ساتھ ان مصائب اور تکالیف کا ، جو نماز کی راہ میں پیش آتی ہیں، مقابلہ نہ کرے وہ پوری طرح نماز کا حق ادا نہیں کر سکتا۔اس لئے میں خاص طور پر ان ملکوں کے احباب جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے رب سے یہ عہد کریں کہ خدا کی عبادت سے غافل نہیں ہوں گے۔یہ ان کی زندگی کا سرمایہ ہے۔یہ ان کا زادِراہ ہے ان کی ذات کے لئے بھی اور جماعت کی اجتماعی حیثیت کے لحاظ سے بھی۔یہ زاد راہ جتنا زیادہ ہو گا احمدیت یعنی حقیقی (دین حق کو اتنی ہی زیادہ قوت و طاقت اور شان و شوکت نصیب ہوگی۔میں اس سلسلہ میں چند مشورے احباب جماعت کو دیتا ہوں۔نمازیں وقت پر ادا کرنے کا عہد سب سے پہلے تو دوست یہ عہد کریں کہ جہاں تک ممکن ہو، سوائے ان ضروریات کے جن میں اللہ تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ نماز میں جمع نہ کی جائیں، نماز میں اپنے وقت پر ادا کیا کریں اور اس بات کی پرواہ نہ کیا کریں کہ کون آپ کو دیکھ رہا ہے اور کیا سمجھ رہا ہے یہ محض جھوٹی شرمیں ہیں اور ایسی حیائیں ہیں جو در حقیقت بے حیائی کا رنگ رکھتی ہیں یعنی اللہ سے شرمانے کی بجائے اگر کوئی شخص انسان سے شرمانے لگ جائے تو اسی کا نام بے حیائی ہے۔جہاں شرم کا حق ہے وہاں یہ حق ادا ہونا چاہیے۔میں نے دیکھا ہے کئی عورتیں جو بے پردہ ہونے لگیں تو وہ ایسا کرتی ہیں کہ جب کوئی واقف یا محرم مرد سا منے آجائے تو اس سے پردہ کر لیتی ہیں اور جب غیروں کے سامنے جاتی ہیں تو پردہ اُتار دیتی ہیں اور یہی بے حیائی ہے۔اور عبادت میں بے حیائی یہ ہے کہ انسان دوسرے انسان سے شرمانے لگ جائے اور اللہ پر نظر نہ رکھے کہ خدا مجھے دیکھ رہا