مشعل راہ جلد سوم — Page 11
11 مشعل راه جلد سوم ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نصیب ہو جاتی ہے جس کے نتیجہ میں آئندہ ہمیشہ اس کی عبادت کی ضمانت مل جاتی ہے۔انسان کو اس کی عبادت کی حفاظت کا پیغام ملتا ہے۔اسی لئے ایسی نمازیں پڑھنے کی کوشش کریں جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں وہ تمہیں اپنا بنالے۔پس یا درکھیں یہی وہ طاقت ہے جس کے بل بوتے پر احمدیت نے دنیا میں ( دین حق ) کو غالب کرنا ہے۔یہی وہ ذریعہ ہے جس سے احمدیت کی گاڑی رواں دواں رہے گی۔اگر یہ گاڑی خدا نخواستہ اس طاقت سے خالی ہو گئی تو اس کی مثال تو ایسی ہو گی جیسے کوئی بہت اچھی کار ہو لیکن پٹرول مہیا نہ ہو۔آپ لاکھ کوشش کریں اس کو دھکیلنا جان جوکھوں کا کام ہو گا۔بعض لوگ ایسی گاڑیوں کو چھوڑ کر پیدل سفر کرنے لگتے ہیں۔یہی حال ان مذہبی جماعتوں کا ہوا کرتا ہے جو اپنے اندر عبادت کی روح پیدا کرنے سے غافل ہو جاتی ہیں۔پھر لوگ ان کو دھکیلتے دھکیلتے تھک جاتے ہیں یہاں تک کہ پھر ان کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی اپنی گھڑیاں اٹھا کر اپنی راہیں لیتے ہیں۔مذہب کا یہی المیہ ہے جو ہمیشہ دیکھنے میں آتا رہا ہے۔پس احمدیت کی اس گاڑی کو جسے خدا کے نام پر ( دین حق کی سربلندی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے خون سے سینچتے ہوئے اور اس میں اپنا خون بھر کر دنیا میں جاری فرمایا ہے اس کو اپنے خونوں سے بھری رکھیں یعنی محبت کے خون سے عشق کے خون سے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیوں کے خون سے۔خدا تعالیٰ کی عبادت کے جذبہ سے یہ گاڑی آگے چلے گی۔پس یہ وہ بنیادی حقیقت ہے جس سے بھی غافل نہ ہوں۔عبادت کے دو پہلو جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔عبادت کے دو پہلو ہیں ایک ظاہری اور دوسرا باطنی۔ظاہری پہلو بھی بہت اہم اور ضروری ہے۔کیونکہ ظاہری پہلو کی اگر حفاظت نہ کی جائے تو محض وہ پٹرول رہ جائے گا جو کسی گاڑی کے چلانے کے کام آسکتا ہے۔مگر گاڑی موجود نہیں ہوگی۔تو ایسا پٹرول کسی کام کا نہیں۔اس لئے دونوں باتیں ضروری ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں اور ایک دوسرے کے لئے لازم ہیں۔پس ظاہر کی حفاظت بھی بہت ہی ضروری اور اہم ہے اور بنیادی حقیقت ہے۔عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ جب ظاہر کی طرف سے انسان غافل ہونا شروع ہو جائے تو رفتہ رفتہ باطنی لحاظ سے بھی انسان غافل ہونے لگ جاتا ہے۔اس لئے ان ملکوں میں جن میں آپ بس رہے ہیں ان میں پہلی ضرورت ظاہر کی حفاظت کی ہے۔وجہ یہ کہ آپ میں سے اکثر ایسے ہیں جو نماز کے مختلف اوقات کے دوران کام میں مصروف ہوتے ہیں اور نماز