مشعل راہ جلد سوم — Page 131
131 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم بے نمازوں کی فیکٹریاں ملتی ہیں۔یعنی جو بھی وہاں پیدا ہوتا ہے بے نمازی ثابت ہوتا ہے۔تو سوال یہ ہے کہ خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ یا دیگر تنظیمیں ان لوگوں کو کس طرح سنبھالیں؟ جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا که قرآن کریم پہلی ذمہ داری بیرونی تنظیموں پر نہیں ڈالتا بلکہ پہلی ذمہ داری گھروں پر ڈالتا ہے اور یہ ایک بڑا ہی گہرا اور پر حکمت نکتہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر اپنے بچوں کی نماز کی حفاظت نہیں کریں گے تو بیرونی د نیالا کھ کوشش کرے وہ اس قسم کے نمازی پیدا نہیں کر سکتی جو گھر کی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔پس میں تمام گھروں کو یہ تلقین کرتا ہوں کہ وہ بڑی ہمت اور جدو جہد کے ساتھ نمازی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور ہمارے ماضی میں جو نیک مثالیں ستاروں کی طرح چمک رہی ہیں ان کی پیروی کریں۔بہت سی مثالوں میں سے میں ایک مثال اپنے چھوٹے پھوپھا جان حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب کی دیتا ہوں۔ان کو نماز سے، بلکہ نماز با جماعت سے ایسا عشق تھا کہ لوگ بعض دفعہ بیماری کے عذر کی وجہ سے ( بیت الذکر ) نہ جانے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں، لیکن وہ بیماری کے باوجود ( بیت الذکر ) جانے کے بہانے ڈھونڈا کرتے تھے۔دل کے مریض تھے اور ڈاکٹر نے بشدت منع کیا ہوا تھا کہ حرکت نہیں کرنی۔لیکن اس کے باوجود آپ ایک Wheel Chair پر بیٹھ کر (پہیوں والی وہ کرسی جس پر بیٹھ کر مریض خود اپنے ہاتھوں سے اس کے پیسے گھماتا ہے ) رتن باغ لاہور میں جہاں نمازیں ہوتی تھیں (اس وقت ( بیت الذکر ) نہیں تھی۔اس لئے رتن باغ کے صحن میں نمازیں ہوا کرتی تھیں) با قاعدگی کے ساتھ وہاں پہنچا کرتے تھے۔جب ( بیت الذکر ) گھر سے دور ہوگئی تو اپنے گھر کو ( بیت الذکر ) بنالیا اور اردگرد کے لوگوں کو دعوت دی کہ تم پانچوں وقت نماز کے لئے میرے گھر آیا کرو اور ( بیت الذکر ) کے جس قدر حقوق عائد ہوتے ہیں، ان سب کو ادا کرتے تھے۔یعنی جب انہوں نے یہ اعلان کیا کہ میرا گھر (بیت الذکر) ہے تو پانچوں نمازوں کے لئے آپ کے گھر کے دروازے کھلے رہتے تھے۔صبح کے وقت نمازی آتا تھا تو دروازے کھلے ہوتے تھے۔رات کو عشاء کی نماز کے لئے آتا تھا تب بھی دروازے کھلے ہوتے تھے اور دو پہر کو بھی دروازے کھلے رہتے تھے۔پھر نمازیوں کے لئے وضو کا انتظام تھا اور دیگر سہولتیں بھی مہیا تھیں۔یہ سب کچھ آپ اس لئے کرتے تھے کہ آپ کو نماز با جماعت سے ایک عشق تھا اور یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ کسی حالت میں بھی آپ کی کوئی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے سے رہ جائے۔چنانچہ آپ کی اولاد میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے نماز کی بڑی پابندی پائی جاتی ہے۔یہ صرف ایک نمونہ ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے اسی قسم کے ہزار ہا نمونے قادیان میں رہنے والوں