مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 107

مشعل راه جلد سوم 107 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ہوا۔یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس کا فلکیات سے بھی تعلق ہے اور فزکس سے بھی تعلق ہے۔چنانچہ Big Bang کی جو تھیوری پیش کی گئی ہے۔اب تک جتنے بھی شواہد ملے ہیں، وہ اس نظریہ کو مزید تقویت دے رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ یہ درست ہے۔چنانچہ حال ہی میں جونئی ریسرچ ہوئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ جو فلیکسیز Recite کر رہی ہیں۔وہ ٹھیک بگ بینگ تھیوری کی Calculation کے مطابق Recite کر رہی ہیں۔اگر بگ بینگ والی یہ تھیوری درست ہے تو مثلاً دس ارب سال کے بعد اس کی یہ رفتار ہونی چاہیے۔یہ ایک نظریاتی Calculation ہے۔اب مثلاً انہوں نے نظریاتی لحاظ سے جو رفتار نکالی ہے وہ مثلاً سب سے دور کی جو گلیکسی ہے اس کی ۲۰ ہزار کلو میٹر رفتار ہونی چاہیے۔اب انہوں نے Red-Shift کے ساتھ فارمولا Apply کر کے دیکھا ہے تو بعینہ یہی رفتار معلوم ہوئی ہے۔یعنی وہ گلیکسی روشنی کی رفتار سے تقریبا ۲۰ فیصد رفتار کے ساتھ دنیا سے الگ ہورہی ہے۔یہ تو گلیکسیز کی بات ہے ایسے Single Stars جو اس سے پہلے الگ ہو چکے ہیں، ان کی رفتار Calculation کے مطابق اس سے کئی گنا زیادہ ہونی چاہیے۔چنانچہ Calculation نظریہ نے کی۔اسکے مطابق جو ہونا چاہیے۔ریڈ شفٹ کے حساب سے بعینہ وہی بات ثابت ہوئی اور وہ ریڈ شفٹ 2x6 بنتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ ہماری کائنات کے مرکز سے ۹۰ فیصدی روشنی کی رفتار کے ساتھ دور ہٹ رہے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ستارے قریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔سائنس کی انتہاء، خدا کی ہستی کا اقرار اب یہ نئی معلومات ثابت کر رہی ہیں کہ بگ بینگ کا نظریہ درست تھا اور اگر وہ درست ثابت ہو تو نوبل پرائز ونر یعنی نوبل انعام یافتہ سائنسدان نے اس نظریہ پر کام کیا ہے۔(اب اس کے خلاف بھی سائنسدانوں کا ایک گروپ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ مذہب کی طرف بات کو لے جا رہا ہے )۔وہ یہ کہتا ہے کہ یہ نظریہ درست ہونے کے بعد ہماری یہ کیفیت ہے کہ ہم نے ایک زمانہ میں اہل مذہب کو بیٹھے ہوئے دیکھا اور ان سے باتیں ہوئیں تو انہوں نے کہا کہ خدا نے کائنات کو پیدا کیا ہے۔اس کے سوا تمہیں کچھ اور نتیجہ نہیں ملے گا۔آخر پر خدا تک ہی پہنچنا پڑے گا۔ہم نے کہا یہ مذہب والے پاگل ہو گئے ہیں، بکواس کرتے ہیں، ان کو چھوڑ و جاہل لوگ ہیں۔چنانچہ ہم ان کو چھوڑ کر سائنس کے سفر پر روانہ ہو گئے۔دوسوسال کے طویل اور مشکل سفر کے بعد آخر ہم وہیں جا پہنچے جہاں وہی مذہبی بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے۔دیکھا ہم نہیں کہتے