مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 93

مشعل راه جلد سوم 93 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- میں اس وقت آپ سے دو باتیں کہنا چاہتا ہوں۔جو بنیادی نوعیت کی ہیں لیکن قبل اس کے کہ میں ان کے متعلق کچھ کہوں میں آپ کو ایک ضروری امر کی طرف توجہ دلا نا چاہتا ہوں۔ٹوپی پہنے کی غیر معمولی اہمیت ابھی میری نظر نے جب ہال کا ایک سرسری جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اکثر سر ننگے ہیں اور ٹوپیوں کی عادت نہیں۔اس پر ایک طرف تو مجھے اپنی ناکامی پر شرمندگی کا احساس ہوا کیونکہ جب میں آپ کا پیٹرن تھا تو آپ کو بار بار اس طرف توجہ دلانے کی کوشش کرتا رہا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ زبان میں کوئی اثر نہیں تھا اس لئے باوجود کوشش کے کامیاب نہیں ہوسکا یا پھر دعا میں کمی رہ گئی۔ٹوپی کے بغیر ننگے سراٹھنے بیٹھنے کو شاید آپ ایک چھوٹی سی بات سمجھتے ہوں گے مگر یہ چھوٹی بات نہیں ہے۔یہ بہت بڑی بات ہے کیونکہ حقیقت میں وہ قو میں جنہوں نے انقلاب برپا کرنا ہوتا ہے ان کو بچپن ہی سے کچھ نہ کچھ انقلابی شان اختیار کرنی پڑتی ہے۔یہ پختہ کردار کی ایک علامت ہے کہ انسان سمجھے کہ زمانہ کی رو جس طرف چلے گی، یہ ضروری نہیں کہ ہم بھی اس طرف چلیں۔مثلاً سالن کے ماننے والوں نے اس قسم کی مونچھیں رکھ لیں۔اسی طرح دنیا کے دیوانے مختلف امتیازی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔مغرب زدہ نو جو ان آنکھیں بند کر کے ہر فیشن کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور اس میں شرم کی بجائے فخر محسوس کرتے ہیں۔اگر گلے میں سنہری ہار ڈالنے شروع ہو گئے ہیں تو سنہری ہار گلے میں پڑنے شروع ہو جاتے ہیں بغیر دیکھے اور بغیر سوچے کہ ہم کیوں یہ کر رہے ہیں۔احمدی نوجوان کو ہمیشہ ٹوپی پہننے کی عادت ڈالنی چاہیے اور یہ بات اپنے شعار میں داخل کرنی