مشعل راہ جلد سوم — Page 85
85 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم تقریب کا کسی کو پتہ بھی نہیں لگنا۔میں نے کہا ہمارے پاس تو پیسے نہیں ہیں۔پہلے ہی بہت پیسے خرچ ہو چکے ہیں۔اس لئے نہیں ہوتی پبلسٹی تو نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ذمہ دار ہے ہم کوئی ٹھیکیدار تو نہیں لگے ہوئے۔جس کا کام ہے وہ جانے۔وہ واقعہ میرے ذہن میں آیا کہ جب خانہ کعبہ پر حملہ کیا گیا۔اصحاب فیل حملہ آور ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب عرب کے رؤساء میں سے وہ شخص تھے جن کو نمائندہ بنا کر ان کے پاس بھجوایا گیا۔ابرہہ کے پاس نمائندگی کے طور پر ان کو بھجوایا گیا کہ وہ کسی طرح اس کو سمجھا بجھا کر باز رکھیں۔یہ بڑی مقدس جگہ ہے۔تم اس کی تحقیر نہ کرو۔وہ گئے اور انہوں نے اپنے اونٹوں کی باتیں شروع کر دیں۔یعنی خانہ کعبہ کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا۔کہا تو بس یہ کہ میرے سو اونٹ تھے ان میں سے اتنے چوری ہو گئے ہیں۔تمہارے لشکر والوں نے چوری کئے ہیں اور میں سردار ہوں اس لئے تم میرے اونٹ واپس کرواؤ۔تم اچھے بادشاہ ہو جو پرانے سرداروں کی عزت کا کوئی خیال ہی نہیں کرتے۔میرے اونٹ واپس کر و۔وہ چپ کر کے بات سنتا رہا۔اس کے بعد اس نے کہا کہ آج میں تم لوگوں سے بڑا ہی مایوس ہوا ہوں۔تم ایسی بے غیرت قوم ہو کہ سارا وقت تمہیں اپنے اونٹوں کی فکر ہے حالانکہ اہل کعبہ کا نمائندہ بن کر آئے ہو۔اور اس کعبہ کی کوئی فکر نہیں جس کو مسمار کرنے کے لئے میں اتنا بڑا لشکر لے کر آیا ہوں۔اس نے کہا میں اسی سوال کا انتظار کر رہا تھا۔دیکھو! میں اونٹوں کا مالک ہوں۔تم نے اندازہ کر لیا ہے کہ مجھے اپنے اونٹوں کی کتنی فکر ہے۔اس خانہ کعبہ کا میرا رب مالک ہے۔وہ فکر کرے گا اپنے گھر کی۔تو میں نے یہ دل میں سوچا کہ وہی رب ہمارا رب ہے جو خانہ کعبہ کا رب تھا۔وہ پبلسٹی کی آپ فکر کرے گا۔ہمیں کوئی ضرورت نہیں اس پر کسی قسم کے خرچ کرنے کی۔چنانچہ انہوں نے اپنے خرچ پر وہ پبلسٹی اس طرح کی کہ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آئی کہ کیا واقعہ ہوا۔ہمیں عرب ممالک سے خط آنے لگ گئے کہ ہم بیٹھے ہوئے ٹیلی ویژن دیکھ رہے تھے اچانک آپ کی تصویر آئی اور پتہ لگا کہ بیت بشارت کا افتتاح ہو رہا ہے۔یعنی وہ عرب ممالک جہاں احمدیت ban کی ہوئی ہے وہاں ٹیلی ویژن پر بیت بشارت کا سپین کا افتتاح خدا تعالیٰ کے فرشتے دکھارہے تھے۔اس لئے کون کہتا ہے کہ یہ مبالغہ ہے کہ آسمان سے ہم نے موسلا دھار بارش کی طرح خدا کے فضلوں کو برستے دیکھا ہے۔خدا کی قسم یہ مبالغہ نہیں ہے۔اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔اس خدا کی قسم کھا کر میں کہتا ہوں جو خانہ کعبہ کا خدا ہے، جو محمد مصطفی کا خدا ہے کہ اس بات میں ایک لفظ بھی مبالغہ نہیں ہے۔ہماری زبانیں بیان نہیں کر سکتیں اس کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوئے ہیں۔