مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 83

مشعل راه جلد سوم 83 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی والے تھے لیکن روانگی میں دیر ہورہی تھی۔میں نے پتہ کیا یہ دیر کیوں ہورہی ہے تو مجھے یہ بتایا گیا کہ پولیس کہتی ہے کہ جس رستہ سے آپ نے گزرنا ہے اس رستہ پر رش بڑا ہوتا ہے اس لئے جب تک ہم وہاں کی ساری ٹریفک بند نہ کرالیں اور رستہ خالی نہ کر الیس ہم آپ کو لے کر نہیں چلیں گے۔پس یہ جو حالات ہیں عقل میں آہی نہیں سکتے۔کیونکہ ہر جگہ ہم نے انتہائی سچائی کے ساتھ اپنی حقیقت سے ان کو آگاہ کر دیا۔کوئی چیز چھپا کر نہیں رکھی۔ہر جگہ جاتے ہی جو پریس انٹرویو ہوا اس میں ہم نے اہل سپین کو بتایا کہ ہم وہ لوگ ہیں جو اپنے ملک کے نزدیک بھی مسلمان نہیں کہلاتے۔ہم آئے تو ہیں ( دین حق ) کی نمائندگی میں لیکن کوئی لگی لپٹی نہیں رکھنا چاہتے۔تمہارا سلوک ہم سے کیا ہو یہ تمہاری مرضی ہے۔لیکن ہم سچائی کے اظہار سے باز نہیں آئیں گے۔ہم وہ کمزور جماعت ہیں ، اتنی کمزور جماعت کہ جن کو اپنے ملک میں بھی آزادی ضمیر کا حق نہیں ہے۔ہمیں اپنے آپ کو مسلمان کہنے کا حق نہیں دیا جا رہا۔یہ نہ سمجھنا کہ بڑے بڑے اسلامی ممالک اور بڑے بڑے طاقتور ممالک کے نمائندے بن کر آئے ہیں اس لئے تم عزت کا سلوک کرو۔ہم تو خاکسار لوگ ہیں۔ہماری کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ہم تو بے بس اور بے چارے لوگ ہیں۔اس لئے یہ سمجھ کر ہم سے جو سلوک کرنا ہے وہ کرو۔لیکن دنیاوی حکومتوں کا نمائندہ سمجھ کر کوئی سلوک نہ کرنا۔ہم صرف اور صرف اپنے رب کے نمائندے ہیں اور صرف اور صرف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نمائندے ہیں۔پس یہ اسی رب کے جلوے تھے جس نے دلوں میں یہ پاک تبدیلی پیدا کی۔اُسی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن تھا جس نے دل جیتے ہیں۔ہمارا اس میں کوئی دخل نہیں۔ہر جگہ پیار اور محبت کے آثار حیرت انگیز طور پر دیکھنے میں آئے یہاں تک کہ جو احمدی باہر سے ملنے آتے تھے وہ حیران اور ہکا بکا رہ جاتے تھے اور بیان کرتے کرتے بعض دفعہ درد کی وجہ سے ان کی آواز میں روندھی جاتی تھیں کہ ہمیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ ہم سے ہو کیا رہا ہے۔افریقنوں نے یہی کہانی بیان کی۔انڈونیشینز نے یہی کہانی بیان کی۔جرمنوں نے یہی کہانی بیان کی۔اور انگلستان سے آنے والوں نے یہی کہانی بیان کی۔امریکہ سے آنے والوں نے۔کینیڈا سے آنے والوں نے بھی۔غرض جس نے بیان کیا یہی بیان کیا کہ جب سے ہم پہنچے ہیں ایسی محبت کا سلوک ہو رہا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ ہم سے ہوا کیا ہے۔گویا کہ ہم شاہی مہمان ہیں۔ایک ہوٹل میں احمدی ٹھہرے ہوئے تھے وہاں کے دوست آئے۔انہوں نے کہا ہمیں تو سمجھ نہیں آتی ہوا کیا ہے۔ہوٹل والے نے اپنا سارا ساز و سامان نکال کر ہمارے سپر د کر دیا ہے۔نہ کچن نہ اپنے کمرے رکھے۔سب کچھ دے دیا ہے کہ تم مزے