مشعل راہ جلد سوم — Page 82
82 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم مختلف ملکوں میں پریس کا تصور مختلف ہے۔بعض جگہ اچھے پریس کی علامت یہ ہے کہ سوفی صدی جھوٹ بولا جائے اور یہ علامتیں اور یہ تعریفیں بدلتی جاتی ہیں کہیں نوے فیصدی جھوٹ آجاتا ہے کہیں اسی فیصدی آ جاتا ہے کہیں ستر فیصدی۔چنانچہ سپین میں جو دوسرا پریس انٹرویو ہوا اس میں انہوں نے ہمارے متعلق ایک لفظ جھوٹ نہیں بولا۔ہر وہ بات نمایاں طور پر بیان کی جو کہ ( دین حق ) کی تائید میں تھی اور دوسرے دن کے پرچے دیکھ کر ہم حیران رہ گئے کہ اگر کوئی احمدی پریس نمائندہ ہوتا تو اس سے بہتر وہ ہمارے انٹرویو کو شائع نہیں کر سکتا تھا۔غرناطہ سے لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے والے اخباروں نے ہمارا چرچا کیا اور اس اعلان کی سرخیاں لگائیں کہ چین نے ( دین حق کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے ہیں۔یہی نہیں بلکہ جب وہ انٹرویو لے کر رخصت ہوئے تو ضمناً انہوں نے ہم سے پوچھا کہ آپ کا پروگرام کیا ہے۔آپ نے الحمراء بھی دیکھنا ہوگا۔ہم نے کہا ہاں ضرور دیکھنا ہے۔انہوں نے کہا انداز آ آپ کس وقت جائیں گے۔ہم نے بتایا کہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک وہاں ہوں گے۔وہ پریس کے نمائندے پھر وہاں بھی پہنچے ہوئے تھے۔اور اس طرح ساتھ ساتھ پھرتے رہے کہ ہمیں دیکھنے کے لئے جو ہجوم اکٹھے ہو جاتے تھے ان کو وہ ہماری ( دعوۃ الی اللہ ) کرتے رہے۔وہ اپنی زبان میں ان کو بتاتے رہے کہ یہ کیا ہے۔(دین حق ) کیا ہے۔اور یہ کیا کہنے آئے ہیں اور کیا لے کر آئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے فضل کیا پہلے تو ہمارے پاس صرف ایک دو مترجم تھے یہ دو چار مترجم بھی ساتھ شامل ہو گئے۔آخر پر جب ہم جدا ہونے لگے تو وہ کہنے لگے ہمیں بتا ئیں۔آخری پیغام دیں۔آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔کوئی ایک فقرہ بتا ئیں جس میں یہاں آنے کی غرض کا خلاصہ آجائے۔میں نے ان سے کہا کہ ایک فقرہ تو پھر میرے دل میں یہ آرہا ہے کہ جو چیز اہل سپین نے ( دین حق) سے تلوار کے زور سے چھینی تھی ہم محبت کے زور سے دوبارہ فتح کرنے کے لئے آگئے ہیں۔چنانچہ دوسرے دن کے اخباروں میں یہی عنوان لگا ہوا تھا۔انہوں نے نمایاں کر کے یہ اعلان لگایا کہ اہل سپین نے ( دین حق) سے جو تلوار کے زور سے چھینا تھا آج ( دین حق) کے نمائندے محبت کے زور سے دوبارہ اس کو واپس لینے کے لئے آگئے ہیں۔دوسرے دن جب ہم واپس روانہ ہونے لگے تو ہمارا پروگرام یہ تھا کہ صبح جلدی روانہ ہوں گے۔خیال یہ تھا کہ گیارہ ساڑھے گیارہ بجے تک قرطبہ پہنچ جائیں۔وہاں مسجد بھی دیکھنی تھی۔اس کے بعد تو پھر اتنی مصروفیت تھی ناممکن تھا باہر نکل کر ہم کوئی چیز دیکھ سکتے۔تو خیال یہی تھا کہ پہلے دن غرناطہ دوسرے دن واپسی ر قرطبہ کی مسجد دیکھیں گے اور اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بے شمار وہاں کام تھے جو کر نے