مشعل راہ جلد سوم — Page 81
81 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم انتظار کر رہی ہوتی تھیں۔اور وہ Take over( ٹیک اوور ) کرتی تھیں اور سلام کر کے پھر پہلی پارٹی اجازت لیتی تھی اور ایک مستقل پارٹی ساتھ رہتی تھی۔صرف یہ حفاظت نہیں کر رہے تھے۔حیرت انگیز محبت کا اظہار تھا۔جب ہم غرناطہ پہنچے ہیں تو دو واقعات ایسے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں کیسی تبدیلی پیدا کر دی۔ایک پولیس آفیسر صاحب جو ہمارے ساتھ تھے وہ موٹروں کے دروازے کھولتے تھے جس طرح ڈرائیور کھولتے ہیں اور رات کو جب ہم جدا ہوئے تقریبا بارہ ایک بج گئے تھے۔غالباً ایک بجے کی بات ہے پریس کا نفرنس بھی ہوئی لمبا عرصہ ہو گیا تھا۔وہ صاحب ہے ہی نہیں تھے میرے دروازے کے سامنے سے۔میں نے اپنے ترجمان دوست کے ذریعہ اس کو کہلوایا کہ آپ تھک گئے ہوں گے۔آپ واپس چلے جائیں۔انہوں نے کہا کہ نہیں اس طرح نہیں جاؤں گا۔پہلے مجھ سے وعدہ کریں کہ صبح الحمراء دیکھنے کے لئے اپنے کمرہ سے نہیں نکلیں گے جب تک میں نہ آجاؤں۔اور مجھے وقت بتا دیں میں اسی وقت پہنچ جاؤں گا۔میں نے وقت بتایا۔اگلے روز دروازہ کھولا وہ باہر کھڑے تھے۔ایسی حیرت انگیز محبت کا اظہار تھا۔میں نے سمجھا یہ کوئی معمولی آدمی ہوگا۔چھوٹے افسر بھی ہوتے ہیں۔اس بیچارے کو شاید ہدایت ہو اس طرح کی۔بعد میں پتہ لگا کہ اس شہر کے وہ اسسٹنٹ پولیس کمشنر تھے۔آخر پر جب ہم جدا ہونے لگے اور پریس والوں نے میرے تاثرات پوچھے تو میں نے ان سے کہا کہ اس شہر کو میں نے دو دفعہ دیکھا ہے۔دونوں دفعہ پولیس کسٹڈی (Police Custody) میں دیکھا ہے ایک دفعہ اس طرح دیکھا کہ پولیس مجھے مجرم سمجھ کر بیرونی دنیا کی مجھ سے حفاظت کر رہی تھی اور آج اللہ کے فضل سے اس طرح دیکھا ہے کہ دنیا کو مجرم سمجھ کر میری حفاظت ہورہی تھی ان سے میں نے کہا میں تو بحیثیت انسان وہی شخص ہوں۔اسی طرح کا انسان ہوں۔کوئی تبدیلی میرے اندر پیدا نہیں ہوئی۔یعنی میرا نام بھی وہی ذات بھی وہی۔مزاج بھی وہی تعلیم بھی وہی۔کیا فرق پڑا ہے۔صرف اور صرف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کی برکت ہے کہ جن کی نمائندگی میں میں اس دفعہ پین گیا تھا اور ایسی حیرت انگیز طور پر کایا پلٹ گئی۔وہاں جب ہم غرناطہ پہنچے ہیں تو پریس کا حال یہ تھا کہ جاتے ہی پہلے ہمیں ہوٹل میں داخل ہوتے ہی آواز آئی۔اَهْلًا وَّ سَهْلًا وَمَرْحَبًا۔ہم نے حیرت سے پوچھا کہ یہ اهلا و سهلا کہنے والے کون ہیں۔تو پتہ لگا کہ پریس کے نمائندے انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے یہ الفاظ سیکھے ہیں آپ کو خوش آمدید کہنے کے لئے۔جب پریس انٹرویو شروع ہوا تو جس طرح ہمیں باقی پر یس کے ساتھ واسطہ پڑتا رہا ہے اور