مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 74

74 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم لوگ اس سے پوری طرح لذت یاب ہو سکتے ہیں جو اس واردات میں سے گزرے ہوں اور جنہوں نے یہ واردات اپنے سامنے گزرتی دیکھی ہوں۔اس کی تفصیلات یہاں بیان کرنے کا وقت نہیں۔نمونہ وہ لوگ جو اعداد وشمار میں چانچنا چاہتے ہیں ان کے لئے مثال کے طور پر یہ بات رکھتا ہوں کہ بعض ملکوں میں جہاں جماعت خود کفیل نہیں تھی بلکہ تقریبا نصف کے قریب ان کو بیرونی دنیا سے مالی مدد دی جاتی تھی ، دو یا تین دن کے اندر اندر خدا تعالیٰ کے فضل سے اس قدر قربانی کی طرف وہ لوگ مائل ہوئے کہ ہم ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچتے تھے تو پیچھے سے (مربی) کی اطلاع آجاتی تھی کہ یہ جماعت اب خود کفیل ہو چکی ہے۔اب کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔پس یہ ہیں اللہ کے فضل جو قطروں کی طرح نہیں یقینا بارش کی طرح نازل ہوئے ہیں۔غیر معمولی طور پر اللہ تعالیٰ نے ہر جہت سے، ہر روحانی جہت سے جماعت پر اپنے فضل فرمائے اور ان کے اخلاص میں غیر معمولی ترقی عطا فرمائی۔یہ ایک بہت لمبی داستان ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا مجھے سپین کی باتیں کرنی ہیں اس لئے میں اس کو فی الحال چھوڑتا ہوں۔ضمنا یہ بیان کر دوں کہ اس سارے سفر کے دوران غیر مذہبی دنیا میں بھی ہم نے اللہ تعالیٰ کے تصرفات کے عجیب نظارے دیکھے۔وہ آنکھیں جو شروع میں خشونت رکھتی تھیں ، وہ نگاہیں جو شک سے دیکھ رہی تھیں ان کے اندر بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں پیدا ہونی شروع ہوئیں۔دشمنی کی نگاہیں دوستی میں بدلیں۔دوستی کی نگاہیں محبت میں بدلیں اور پریس کانفرنسز کے موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف فرمایا کہ ہر پریس کانفرنس ایک مذہبی ( دعوۃ الی اللہ ) کا ذریعہ بن گئی۔اور پھر اس ( دعوۃ الی اللہ ) کو بہت سے اخبارات نے اپنے صفحات میں شائع بھی کیا۔یہاں تک کہ بعض ایسے اخبارات نے بھی جو عیسائیت کے نمائندہ تھے۔جن کے متعلق یہ کہا گیا تھا کہ یہ تو آئے ہیں صرف حاضری دینے کے لئے چونکہ عیسائی دنیا کے نمائندہ ہیں اس لئے مذہبی باتیں ( دین حق) کے حق میں تو یہ شائع کر ہی نہیں سکتے۔اس لئے ان سے توقع نہ رکھی جائے۔ایک ایسے ہی اخبار نے سب سے زیادہ شاندار الفاظ میں جماعت احمدیہ کی ( دعوۃ الی اللہ ) کی ہے اور ایسا بھر پور، پُر مغز مقالہ لکھا اور احمدیت کی طرف سے دلائل اس رنگ میں پیش کئے کہ جس سے لکھوکھا غیروں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک احسن رنگ میں ( دین حق ) کا پیغام ملا۔اب آپ کہیں اور ذرا سوچیں کہ اس میں مبالغہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام اور ( دین حق ) کا پیغام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن کی جھلکیاں عیسائی اخبار کے ذریعہ لکھوکھا انسانوں تک پہنچ